قارئین ، ”عوام اور جوان“ ایک ایسا فکر انگیز تصور ہے جو بھارتی فوج اور ملک کے شہریوں کے درمیان قائم مضبوط، باہمی اعتماد پر مبنی اور دیرپا تعلق کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ تعلق صرف قومی سلامتی تک محدود نہیں بلکہ عوامی خدمت، سماجی فلاح، باہمی تعاون اور قومی یکجہتی جیسے اعلیٰ مقاصد پر بھی استوار ہے۔ فوج مختلف عوامی فلاحی سرگرمیوں کے ذریعے نہ صرف دور دراز علاقوں میں بسنے والے لوگوں کی ضروریات پوری کرتی ہے بلکہ اپنے سابق فوجیوں کی بہبود کو بھی اپنی اہم ذمہ داری تصور کرتی ہے۔ اسی سلسلے میں میڈیکل کیمپ اور سابق فوجیوں کی ریلی کا انعقاد اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ بھارتی فوج عوام اور اپنے سابق سپاہیوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہمیشہ سرگرم عمل رہتی ہے۔ یہ رپورٹ عوام اور فوج کے اس مضبوط تعلق، اس کی موجودہ صورتِ حال، اس کے مثبت اثرات اور مستقبل میں اس کے مزید استحکام کے امکانات کا جائزہ پیش کرتی ہے۔چھوٹالی کے مقام پر بھارتی فوج کی جانب سے منعقد کیا گیا طبی امدادی کیمپ ایک نہایت منظم، مو ¿ثر اور عوام دوست اقدام تھا، جس کا بنیادی مقصد مقامی آبادی کو بنیادی طبی سہولیات فراہم کرنا تھا۔ اس پروگرام میں علاقے کے لوگوں نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ بزرگ افراد، خواتین، نوجوانوں اور بچوں کی بڑی تعداد نے طبی معائنہ، صحت سے متعلق مشاورت، مختلف بیماریوں کی ابتدائی تشخیص اور مفت ادویات کی سہولت سے فائدہ اٹھایا۔فوج کے طبی عملے نے نہ صرف مریضوں کا علاج کیا بلکہ عوام کو صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرنے کے حوالے سے بھی مفید رہنمائی فراہم کی۔ صفائی ستھرائی، متوازن غذا، حفظانِ صحت، صاف پانی کے استعمال اور بیماریوں سے بچاو ¿ کے مختلف طریقوں کے بارے میں لوگوں میں شعور اجاگر کیا گیا، تاکہ وہ مستقبل میں بہتر صحت کے اصولوں پر عمل پیرا ہو سکیں۔اس طبی کیمپ نے فوری طبی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ دور افتادہ علاقوں میں بسنے والے عوام کے دلوں میں اعتماد اور تحفظ کا احساس بھی پیدا کیا۔ اس سے فوج اور مقامی آبادی کے درمیان باہمی احترام، خیرسگالی اور تعاون کے جذبات کو مزید فروغ ملا۔ اس اقدام نے اعتماد سازی کے ایک مو ¿ثر ذریعہ کے طور پر کام کیا اور یہ ثابت کیا کہ فوج اپنی دفاعی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ انسانی خدمت اور عوامی فلاح کو بھی برابر اہمیت دیتی ہے۔ طبی امداد سے مستفید ہونے والے افراد نے بروقت علاج اور بہترین انتظامات پر ٹورنا بٹالین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور اس کے انسان دوست کردار کو بے حد سراہا۔چنار نو جوان کلب، بونیار میں سابق فوجیوں کی ایک جامع اور کامیاب ریلی کا انعقاد بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی تھا۔ اس پروگرام کا مقصد بھارتی فوج اور سابق فوجیوں کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنا، ان کی فلاح و بہبود سے متعلق مسائل کو سننا اور انہیں مختلف سرکاری و فوجی فلاحی منصوبوں سے آگاہ کرنا تھا۔ریلی میں سابق فوجیوں، ویر ناریوں، شہدائ کی بیواو ¿ں اور ان کے اہلِ خانہ نے بھرپور شرکت کی۔ فوجی حکام نے شرکاءسے براہِ راست ملاقاتیں کیں، ان کے مسائل سنے اور ان کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر مختلف سرکاری اور فلاحی اداروں کے نمائندے بھی موجود تھے جنہوں نے دستاویزات کی تکمیل، شکایات کے ازالے، طبی سہولیات، بینکاری خدمات، کینٹین سی ایس ڈی اور نان سی ایس ڈی کی سہولیات اور دیگر سرکاری مراعات سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کیں۔تقریب کے انتظامات نہایت منظم اور خوش اسلوبی سے کیے گئے تھے۔ رجسٹریشن کاو ¿نٹر، استقبالیہ، نشستوں کا مناسب انتظام اور مہمانوں کے لیے ریفریشمنٹ کی سہولت نے پروگرام کو مزید کامیاب بنایا۔ چنار نو جوان کلب، بونیار کی جانب سے ایک خصوصی شیف بیکری اسٹال بھی قائم کیا گیا جہاں مختلف بیکری مصنوعات اور مقامی روایتی پکوان پیش کیے گئے، جنہیں شرکائ نے بے حد پسند کیا۔ اس کے علاوہ ایک تعاملی نشست کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں سابق فوجیوں نے اپنے تجربات، تجاویز اور مسائل کھل کر پیش کیے جبکہ متعلقہ حکام نے ان کے سوالات کے تسلی بخش جوابات دیے۔میڈیکل کیمپ اور سابق فوجیوں کی ریلی کا کامیاب انعقاد اس امر کا روشن ثبوت ہے کہ بھارتی فوج نہ صرف ملکی دفاع کی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھا رہی ہے بلکہ عوامی خدمت، انسانی ہمدردی اور سابق فوجیوں کی فلاح کو بھی اپنی بنیادی ترجیحات میں شامل رکھتی ہے۔ ایسے اقدامات عوام اور فوج کے درمیان اعتماد، تعاون اور خیرسگالی کے رشتے کو مزید مضبوط بناتے ہیں اور قومی یکجہتی کو فروغ دیتے ہیں۔”عوام اور جوان” کا تصور اسی وقت حقیقی معنوں میں کامیاب ہو سکتا ہے جب فوج اور عوام ایک دوسرے کے ساتھ اعتماد، احترام اور مشترکہ ذمہ داری کے جذبے کے تحت آگے بڑھیں۔ میڈیکل کیمپ اور سابق فوجیوں کی ریلی جیسے پروگرام اسی روشن سوچ کی عملی مثال ہیں، جو ایک محفوظ، صحت مند، خوشحال اور متحد معاشرے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مستقبل میں بھی اس نوعیت کی سرگرمیوں کا تسلسل نہ صرف عوامی اعتماد میں اضافہ کرے گا بلکہ قومی ترقی، سماجی استحکام اور باہمی ہم آہنگی کے سفر کو مزید مضبوط بنیادیں فراہم کرے گا۔


