فضلِ بہار
شگفتہ کوثر
کوٹرنکا راجوری
پرندے ان ہواؤں میں مست پھرے سرشار ہیں ۔۔
پھولوں سے بھرے ہوئے یہ مہکتے ہوئے گلزار ہیں۔۔
چمکتا مہکتا ہوا یہاں غنچا گُل و خار ہے
ہمارا جی کیوں نہ لگے یہاں یہ تو فضلِ بہار ہے ۔۔
اِن حسین وادیوں کا ایسا نظارہ ہے ۔۔
جیسے آسماں میں چمکتا ہوا ستارہ ہے۔۔
پرندوں کے چہچہانے سے سوہانی یہ بزم سحر ہے۔۔
اپنا راستہ بھٹکتی ہوئی پانی کی یہ نہر ہے ۔۔
رنگ برنگے پھولوں سے بھری ہوئی یہ کلیاں ہیں۔۔
پہاڑوں کو کاٹتی ہوئی ٹہلتی ہوئی یہ ندیاں ہیں۔۔
دریا کے بغیر ان پہاڑوں میں ویرانی ہے۔۔
میں نے مہکتے ہوئے پھولوں سے سنی یہ کہانی ہے۔۔






