کرناہ، 27 جولائی: کرناہ کے نوا گبرہ علاقے میں واقع مدرسہ مدینۃ العلوم میں اتوار کے روز ایک عظیم الشان اور روح پرور دینی اجتماع کا انعقاد کیا گیا، جس میں علماء کرام، طلبہ، والدین اور مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں عقیدت مندوں نے شرکت کی۔
اس بابرکت اجتماع میں وادیٔ کشمیر کے ممتاز علماء و مفتیانِ کرام، جن میں مفتی جعفر قاسمی صاحب، مفتی نذیر احمد قاسمی صاحب، مفتی شفیع الرحمٰن صاحب، مفتی مظفر جمیل صاحب، مفتی اعجاز احمد ضیائی صاحب اور مولانا ارشد امین صاحب شامل تھے، نے خصوصی شرکت کی۔ ان کی موجودگی نے تقریب کو مزید وقار اور روحانی عظمت عطا کی۔
تقریب کی سب سے نمایاں اور روح پرور تقریب اُن طلبہ و طالبات کی دستاربندی تھی جنہوں نے کامیابی کے ساتھ قرآنِ مجید حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی۔ نو فارغ التحصیل حفاظِ کرام کی دستاربندی کی گئی اور ان کی دینی خدمات، روشن مستقبل اور دینِ اسلام کی خدمت میں ثابت قدمی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
اس موقع پر عالمیت کا نصاب مکمل کرنے والے طلبہ کی بھی پروقار دستاربندی عمل میں آئی۔ دینی تعلیم کے حصول میں ان کی کئی سالہ محنت، لگن اور استقامت کو سراہتے ہوئے انہیں اعزاز سے نوازا گیا۔ مزید برآں، حافظاتِ قرآن کی تعلیم و تربیت میں بھرپور تعاون کرنے والے والدین کی خدمات کے اعتراف میں فارغ التحصیل طالبات کے والدین، خصوصاً والد صاحبان، کی بھی دستاربندی کی گئی، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے معزز مفتیانِ کرام اور علماء نے اسلام کی مختلف تعلیمات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے دینی اور اخلاقی تعلیم کی اہمیت، قرآن و سنت پر عمل پیرا ہونے، ایمان کو مضبوط بنانے اور موجودہ دور میں اسلامی اقدار کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ مقررین نے والدین پر بھی زور دیا کہ وہ عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد کی دینی تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔
علماء کرام نے فارغ التحصیل حفاظ، علماء اور ان کے اہلِ خانہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے انہیں امتِ مسلمہ کا قیمتی سرمایہ قرار دیا۔ انہوں نے قرآنِ کریم حفظ کرنے اور دینی علم حاصل کرنے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ علم، حسنِ اخلاق اور دینی رہنمائی کے ذریعے معاشرے کی خدمت جاری رکھیں۔
اجتماع کا اختتام ملک و ملت کی سلامتی، امن، اتحادِ امت اور عوام کی خوشحالی کے لیے اجتماعی دعا کے ساتھ ہوا۔ کرناہ کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے عقیدت مندوں کی کثیر تعداد نے اس بابرکت اجتماع میں شرکت کی، جس سے یہ تقریب ایک یادگار اور روحانی طور پر نہایت مؤثر اجتماع بن گئی۔







