سن ١٩۴٧ سے پہلے جب ہندوستان ایک آزاد ملک نہ تھا ، پونچھ ایک جاگیر تھی جس پر مہاراجہ ہری سنگھ کے خاندان کی حکومت تھی۔ ١٩۴٠ میں راجہ جگت دیو سنگھ (پونچھ کے راجہ) کی موت کے بعد، مہاراجہ ہری سنگھ نے پونچھ کی جاگیر کو ریاست جموں و کشمیر کے ساتھ ملانے کی کوشش کی، اس کے نتیجے میں پونچھ نے اپنی خود مختار حیثیت کھو دی اور اس کے لوگوں کو زیادہ محصول لگان کا نشانہ بنایا گیا، جس کی وجہ سے لوگوں میں بے حد ناراضگی پیدا ہوئی ۔ پونچھ کے لوگوں کی فوج میں خدمات انجام دینے کی تاریخ بہت ہی اعلی اور خوشگوار رہی ہے۔ پونچھ کے علاقے کے قریباً ٦٠٠٠٠ باشندوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانوی ہندوستانی فوج میں داخلہ لیا تھا۔ جنگ کے بعد بہت سے پونچیوں نے اپنے ہتھیار اپنے پاس رکھ لیے اور افواج کو واپس دینے سے انکار کر دیا ۔ مہاراجہ ہری سنگھ کے ذریعہ پنجاب سے سکھوں اور ہندوؤں کی ریاستی افواج میں درآمد کے ساتھ، پونچھیوں کو ریاستی افواج میں شامل نہیں کیا گیا، جس کے نتیجے میں پونچھیوں کی بڑی تعداد بے روزگار ہوگئی اور بہت سے لوگ اس بات سے ناراض ہوگئے ۔
١٩۴٧ کے وسط میں، ہندوستان اور پاکستان کی آنے والی آزادی اور انگریزوں کے قبضہ میں ہندوستان اب دو ریاستوں میں تقسیم ہونے جا رہا تھا ، اسی دوران مہاراجہ ہری سنگھ نے آزاد رہنے کی ترجیح کا اشارہ کیا۔ مہاراجہ کے فیصلے کی ریاست کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور لیڈران نے حمایت کی سوائے مسلم کانفرنس کے جو کہ پاکستان کے ساتھ الحاق کے حق میں تھی۔ ہندوستان اور پاکستان کے تسلط کی آزادی کے وقت تک، پونچیوں نے اپنی شناخت پاکستان سے شروع کر دی تھی اور مسلم کانفرنس کی حمایت کرنا شروع کر دی۔ پاکستان کے حامی موقف ریاستی فوج کے مسلم دستے اگست ١٩۴٧ میں مہاراجہ کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کر رہے تھے۔اس کام کو پائے تکمیل تک پہنچانے کے لیے پاکستان کے مسلم سماجی کارکنوں نے احتجاج کئے جس کی وجہ سے ریاست پونچھ میں احتجاج کرنے والے لوگوں کو تقویت ملی۔
٣ اکتوبر ١٩۴٧ کو مسلم کانفرنس کے رہنماؤں نے آزاد جموں و کشمیر کی عارضی حکومت کا اعلان کیا اور مظفر آباد کو اس کا صدر مقام اور خواجہ غلام نبی گلکر کو اس کا صدر قرار دیا۔ تاہم گلکر کی گرفتاری کے ساتھ ہی آزاد جموں و کشمیر حکومت جلد ہی ڈگمگا گئی۔ پھر ٦ اکتوبر ١٩۴٧ کو ریاستی فوج کے چھوڑنے والے ، سابق فوجی جوان اور دیگر بے روزگار رضاکاروں نے مسلح بغاوت شروع کی اور انہوں نے جلد ہی ضلع پونچھ کا کنٹرول واپس سے اپنے ہاتھ میں حاصل کر لیا۔ ٢١ اکتوبر ١٩۴٧ کو ۴٠٠٠ پشتون قبائل کے لوگ مظفر آباد کے قریب جموں و کشمیر میں داخل ہوئے۔پشتون قبائل کی لوگوں کو جموں کشمیر میں لانے میں خورشید انور (مسلم لیگ نیشنل گارڈز کے سربراہ)کا سب سے بڑا ہاتھ تھا ، ان پشتون قبائل کے لوگوں کی طاقت چند دنوں میں تیزی سے بڑھ کر ١٢٠٠٠ تک پہنچ گئی۔اس سارے ماحول کو مد نظر رکھتے ہوئے مہاراجہ ہری سنگھ جن کو اس حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا ۔انہوں نے آخر میں ہندوستانی یونین میں شامل ہونے کی درخواست کی ۔مہاراجہ ہری سنگھ نے ہندوستان سے الحاق کرنے کے بعد حکومت ہند سے درخواست کی کہ انہیں ہندوستان کی افواج کی ضرورت ہے جو ان پشتون قبائل کو جموں و کشمیر سے بچا لے ۔حکومت ہند نے اس بات پر غور و فکر کرنے کے بعد فیصلہ لیا کہ وہ اپنے فوجی جوانوں کو جموں و کشمیر میں پشتون قبائل سے لڑنے کے لیے بھیج دیں گے اور ریاست جموں و کشمیر کا دفاع کریں گے ۔آخر میں ہندوستانی فوجیوں نے سرینگر کے دفاع کے لیے ٢٧ اکتوبر ١٩۴٧ کو فوری طور پر فوجی دستے بھیج دیئے ۔ اس کے بعد پونچھ کی بغاوت قبائلیوں کے حملے کے ساتھ ساتھ آگے بڑھی۔
پونچھیوں نے ١٩۴٧ میں مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف بغاوت کر کے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ بغاوت کی قیادت سردار محمد ابراہیم خان نے کی جو بعد میں لاہور فرار ہو گئے اور اس بغاوت کی پشت پناہی کے لیے پاکستانی حکام سے مدد طلب کی۔ وزیر اعظم لیاقت علی نے شمالی پاکستان سے میجر خورشید انور اور جنوبی ہندوستان سے سابق ہندوستانی فوجیوں کی قیادت میں حملے کی اجازت دے کر حمایت کی، جو بالآخر پہلی کشمیر جنگ کا باعث بنی اور پونچھ جاگیر آزاد کشمیر (اب پاکستان کے زیر قبضہ) میں تقسیم ہو گی ۔




