Monday, August 24, 2026
  • About us
  • Contact
  • Our Team
  • Advertise
  • Careers
  • Privacy Policy
Gadyal Kashmir
  • Home
  • Kashmir
  • Jammu
  • World
  • National
  • Sports
  • Article
  • ePaper
No Result
View All Result
Gadyal Kashmir
Home Opinion Article

کھیلوں کی دنیا میں کشمیر کا ابھرتا ہوا نام

تحریر:ایڈوکیٹ صفا by تحریر:ایڈوکیٹ صفا
24/08/2026
A A
FacebookTwitterWhatsappTelegram

قارئین ، کسی نوجوان کے ہاتھ میں کرکٹ کا بلا ہو، پاؤں میں فٹبال ہو یا آنکھوں میں کسی بڑے مقابلے میں کامیابی کا خواب، کشمیر کی نئی نسل کھیلوں کے میدان میں اپنی ایک الگ شناخت بنانے کے لیے بے قرار دکھائی دیتی ہے۔ وادی کے چھوٹے چھوٹے میدانوں سے لے کر قومی سطح کے بڑے اسٹیڈیموں تک پہنچنے والی کئی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہاں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں۔ ضرورت صرف اس صلاحیت کو بروقت پہچاننے، سنوارنے اور مناسب پلیٹ فارم فراہم کرنے کی ہے۔کشمیر میں کھیلوں کا شوق کسی نئے رجحان کا نتیجہ نہیں۔ برسوں سے دیہات اور قصبوں میں ہونے والے مقامی مقابلے نوجوانوں کی سرگرمیوں کا اہم حصہ رہے ہیں۔ فصل کی کٹائی کے بعد خالی ہونے والے کھیت ہوں یا کسی بستی کے قریب دستیاب کھلی زمین، نوجوان وہاں اپنے لیے کھیل کا میدان بنا لیتے ہیں۔گزشتہ شام میرے قصبے میں ایک مقامی کرکٹ ٹیم کی کامیابی نے پورے علاقے کو جشن میں بدل دیا۔ ہماری بستی کی حمزہ کرکٹ ٹیم نے پڑوسی گاؤں کی ٹیم کو ایک سخت مقابلے کے بعد شکست دی تو گلیاں خوشی سے بھر گئیں۔ کہیں پٹاخوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں، کہیں مٹھائیاں تقسیم ہورہی تھیں اور کہیں نوجوان روایتی ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے نظر آئے۔ شام ڈھلتے ہی جلائے گئے الاؤ اور فتح کے نعروں نے ایسا سماں باندھ دیا جیسے پورا علاقہ کسی بڑے اسٹیڈیم میں تبدیل ہوگیا ہو۔ عمر کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے جمع تھے اور وادی کی مخصوص خاموش فضا میں فتح کی صدائیں دیر تک گونجتی رہیں۔یہ منظر محض ایک گاؤں یا ایک کرکٹ ٹیم کی کامیابی تک محدود نہیں۔ کشمیر کے طول و عرض میں کھیل روزمرہ زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکے ہیں۔ سری نگر کے گنجان علاقوں سے لے کر کولگام اور پلوامہ کے دور دراز دیہات تک نوجوانوں میں کھیلوں کا شوق مسلسل بڑھ رہا ہے۔ کرکٹ، فٹبال، والی بال، سائیکلنگ، مارشل آرٹس اور موسم سرما کے کھیلوں نے نئی نسل کے لیے اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے وسیع مواقع پیدا کیے ہیں۔ کھیل اب محض تفریح نہیں رہے بلکہ نوجوانوں کے لیے امید، نظم و ضبط، صحت اور کامیابی کی ایک زبان بن چکے ہیں۔ کرکٹ کے مقامی ٹورنامنٹس تو بعض علاقوں میں باقاعدہ تہوار کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ ٹیموں کی جیت اور شکست پورے گاؤں کی عزت کا معاملہ بن جاتی ہے اور مقابلوں کو دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں لوگ میدان کا رخ کرتے ہیں۔ایسے ماحول میں کھیلنے والے نوجوانوں کو ابتدا ہی سے مختلف نوعیت کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ غیر ہموار زمین، گیند کا غیر متوقع انداز میں اچھلنا، محدود سہولیات اور شائقین کی سخت تنقید انہیں مشکل حالات میں کارکردگی دکھانے کا ہنر سکھاتی ہے۔ یہی تجربہ آگے چل کر ان کی ذہنی مضبوطی، فوری فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور مقابلے کے دوران خود پر قابو رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ یوں مقامی کھیلوں کے میدان غیر محسوس انداز میں نوجوانوں کی پہلی تربیتی اکیڈمی بن جاتے ہیں۔اگرچہ کرکٹ نے سب سے زیادہ شہرت حاصل کی ہے، مگر کشمیر کے کھیلوں کا منظرنامہ اس سے کہیں وسیع ہے۔ فٹبال بھی نوجوانوں کے دلوں میں گہری جگہ رکھتا ہے۔ سری نگر کے گنجان علاقوں سے لے کر دور دراز دیہات تک شام کے وقت فٹبال کے مقابلے منعقد ہوتے ہیں۔ کئی جگہوں پر مقامی نوجوان اور کھیلوں کے شائقین اپنی مدد آپ کے تحت روشنی کا انتظام کرکے رات تک مقابلے جاری رکھتے ہیں۔ سرد موسم بھی اس جذبے کو ماند نہیں کرسکتا۔ دوسری جانب مارشل آرٹس، والی بال، سائیکلنگ اور موسم سرما کے کھیل، بالخصوص گلمرگ کی اسکیئنگ، نوجوانوں کے لیے اپنی صلاحیتیں آزمانے کے مزید راستے کھول رہے ہیں۔ماضی میں مسئلہ یہ تھا کہ وادی میں بے پناہ صلاحیت رکھنے والے کھلاڑی اکثر مناسب رہنمائی اور قومی سطح کے مواقع سے محروم رہ جاتے تھے۔ تربیتی سہولیات محدود تھیں، بڑے مقابلوں تک رسائی آسان نہیں تھی اور ٹیلنٹ کی تلاش کا منظم نظام بھی پوری طرح موجود نہیں تھا۔ نتیجتاً کئی باصلاحیت کھلاڑی مقامی سطح پر شاندار کارکردگی دکھانے کے باوجود بڑے میدانوں تک نہیں پہنچ سکے۔ گزشتہ کچھ برسوں میں بنیادی ڈھانچے میں بہتری، جدید اسکاؤٹنگ نظام اور مختلف سرکاری و نجی اقدامات نے اس صورت حال کو تبدیل کرنے میں مدد دی ہے۔کشمیر کے نوجوانوں کے لیے اس تبدیلی کی سب سے بڑی علامت ان کھلاڑیوں کی کامیابیاں ہیں جنہوں نے مقامی میدانوں سے نکل کر قومی کرکٹ میں جگہ بنائی۔ پرویز رسول کی کامیابی نے ایک نئی نسل کو یہ یقین دلایا کہ کشمیر کا ایک عام نوجوان بھی بھارتی کرکٹ کے اعلیٰ ترین پلیٹ فارم تک پہنچ سکتا ہے۔ اس کے بعد عمرن ملک نے اپنی غیر معمولی رفتار کے ذریعے قومی سطح پر توجہ حاصل کی۔ عبدالصمد اور رسیک سلام جیسے نوجوانوں نے بھی انڈین پریمیئر لیگ جیسے بڑے مقابلوں میں اپنی جگہ بنا کر یہ ثابت کیا کہ کشمیر کی کرکٹ صلاحیت کسی بھی بڑے مقابلے میں اپنا اثر چھوڑ سکتی ہے۔فٹبال کے میدان میں بھی وادی نے نمایاں نام پیدا کیے ہیں۔ مہرالدین وڈو کا قومی ٹیم تک پہنچنا ایک اہم مثال ہے، جبکہ ریئل کشمیر ایف سی کے قیام نے مقامی کھلاڑیوں کو اعلیٰ سطح کی فٹبال سے براہ راست جڑنے کا موقع دیا۔ سری نگر میں ہونے والے بڑے مقابلوں نے نوجوان کھلاڑیوں کو پیشہ ور اور غیر ملکی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے اور ان کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کیا۔ اس سے نہ صرف کھیل کا معیار بہتر ہوا بلکہ نوجوانوں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا۔خواتین کی کھیلوں میں بڑھتی ہوئی شرکت بھی ایک خوش آئند تبدیلی ہے۔ جاسیہ اختر نے کرکٹ کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، جبکہ خواتین فٹبال کے مختلف عمر کے مقابلوں میں وادی کی نئی کھلاڑی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ یہ پیش رفت اس سوچ کو تقویت دیتی ہے کہ کھیلوں کی ترقی اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک لڑکیوں کو بھی لڑکوں کے برابر مواقع، سہولیات اور تربیت حاصل نہ ہو۔کشمیر میں کھیلوں کی اہمیت صرف مقابلہ جیتنے یا کسی کھلاڑی کو قومی ٹیم تک پہنچانے تک محدود نہیں۔ نوجوانوں کے لیے کھیل صحت مند اور تعمیری سرگرمی کا بہترین ذریعہ ہیں۔ کھیل انہیں نظم و ضبط، محنت، ٹیم ورک اور برداشت کا سبق دیتے ہیں۔ ایسے وقت میں جب نوجوان مختلف سماجی اور ڈیجیٹل مصروفیات میں گھِر رہے ہیں، کھیل انہیں جسمانی سرگرمی کے ساتھ مقصد اور مثبت سمت بھی فراہم کرتے ہیں۔ میدان میں کھیلتے ہوئے مقامی، سماجی یا دوسرے اختلافات پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور پوری توجہ ٹیم کی کامیابی پر مرکوز ہوجاتی ہے۔اس حقیقت کو محسوس کرتے ہوئے کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی کوششیں بھی تیز ہوئی ہیں۔ گلمرگ میں کھیلو انڈیا ونٹر گیمز کا انعقاد، اضلاع میں کھیلوں کی اکیڈمیوں کا قیام، مصنوعی ٹرف میدان، انڈور ہال، مصنوعی گھاس کے فٹبال گراؤنڈ، کرکٹ پریکٹس نیٹس اور آبی کھیلوں کے مراکز اس سمت میں اہم اقدامات ہیں۔ دور دراز علاقوں تک ٹیلنٹ ہنٹ پروگراموں کی رسائی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ کسی باصلاحیت نوجوان کی صلاحیت صرف اس وجہ سے ضائع نہ ہوجائے کہ وہ کسی دور افتادہ علاقے سے تعلق رکھتا ہے۔جدید سہولیات کے ساتھ معیاری تربیت بھی ناگزیر ہے۔ تجربہ کار کوچز اور سابق قومی سطح کے کھلاڑی جب نوجوانوں کے ساتھ کام کرتے ہیں تو قدرتی صلاحیت کو باقاعدہ تکنیکی تربیت میں تبدیل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ فٹنس، ویڈیو تجزیہ، کھیل کی حکمت عملی اور ذہنی تیاری جیسے جدید پہلو اب تربیت کا حصہ بن رہے ہیں۔ تاہم دیہی علاقوں میں کوچنگ مراکز کی مزید توسیع، مستقل مقابلوں کے مواقع اور کھیلوں کے لیے کارپوریٹ سرپرستی میں اضافہ اب بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔کشمیر کے کھیلوں کا مستقبل روشن ہوسکتا ہے، بشرطیکہ مقامی سطح پر موجود جوش و جذبے کو مستقل ادارہ جاتی تعاون حاصل ہو۔ کسی گاؤں کی ٹیم کا ایک ٹورنامنٹ جیت کر جشن منانا بظاہر ایک چھوٹی کامیابی معلوم ہوسکتی ہے، مگر اسی جشن میں کسی نوجوان کا وہ خواب بھی چھپا ہوسکتا ہے جو اسے ایک دن قومی یا بین الاقوامی میدان تک لے جائے۔آج وادی کے مختلف علاقوں میں کرکٹ کے چھوٹے میدانوں، فٹبال گراؤنڈز اور برف پوش ڈھلوانوں پر کھیلنے والے نوجوان دراصل کشمیر کے مستقبل کی نئی تصویر رقم کررہے ہیں۔ اگر انہیں جدید سہولیات، بہترین کوچنگ، مسلسل مقابلے اور حوصلہ افزائی میسر آتی رہی تو یہ میدان صرف مقامی فاتح نہیں پیدا کریں گے بلکہ ایسے کھلاڑی بھی سامنے لائیں گے جو قومی اور عالمی سطح پر کشمیر کی صلاحیت، محنت اور جذبے کی نمائندگی کریں گے۔حمزہ کرکٹ ٹیم کی فتح پر گاؤں میں ہونے والا جشن دراصل اسی بڑے خواب کی ایک چھوٹی سی تصویر ہے۔ ایک مقامی میدان میں لگایا جانے والا چھکا، کیچ، گول یا تیز گیند صرف ایک لمحے کی کامیابی نہیں بلکہ کسی بڑے سفر کا آغاز بھی ہوسکتا ہے۔ کشمیر کے نوجوانوں میں صلاحیت، جذبہ اور محنت کی کمی نہیں۔ انہیں اگر معیاری میدان، جدید سہولیات، تربیت اور مسلسل حوصلہ افزائی میسر آئے تو وادی کے یہ چھوٹے میدان مستقبل میں ایسے کھلاڑی پیدا کرسکتے ہیں جو نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ قومی اور بین الاقوامی کھیلوں کے بڑے میدانوں میں بھی کشمیر کا نام روشن کریں۔کھیلوں کا یہ سفر دراصل کشمیر کے نوجوانوں کے خوابوں کا سفر ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ ان خوابوں کو مناسب راستہ، مضبوط بنیاد اور مسلسل مواقع فراہم کیے جائیں۔

 

Related posts

ترنگے کے سائے میں بدلتی وادی کی تصویر

24/08/2026

وادی کشمیر میں تعلیم کی نئی روشنی

24/08/2026

 

 

 

 

Previous Post

پُر امن کشمیر کےلئے انتہاپسندی کے خلاف نوجوان نسل

Next Post

وادی کشمیر میں تعلیم کی نئی روشنی

تحریر:ایڈوکیٹ صفا

تحریر:ایڈوکیٹ صفا

Related Posts

Article

ترنگے کے سائے میں بدلتی وادی کی تصویر

by تحریر:ایڈوکیٹ صفا
24/08/2026
0

قارئین ، یومِ آزادی کا جشن محض ایک قومی تہوار نہیں بلکہ اپنے ماضی کو یاد کرنے اور مستقبل کے...

Read more

وادی کشمیر میں تعلیم کی نئی روشنی

24/08/2026

پُر امن کشمیر کےلئے انتہاپسندی کے خلاف نوجوان نسل

24/08/2026

خوشحال کشمیر، دنیا کے سامنے ابھرتی ہوئی ایک نئی تصویر

24/08/2026
From the Heart of Kashmir to the World: Why TEDxDalLake Matters

From the Heart of Kashmir to the World: Why TEDxDalLake Matters

23/08/2026
Next Post

وادی کشمیر میں تعلیم کی نئی روشنی

  • About us
  • Contact
  • Our Team
  • Advertise
  • Careers
  • Privacy Policy
e-mail: [email protected]

© 2022 Gadyal - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Kashmir
  • Jammu
  • World
  • National
  • Sports
  • Article
  • ePaper

© 2022 Gadyal - Designed and Developed by GITS.