Monday, August 24, 2026
  • About us
  • Contact
  • Our Team
  • Advertise
  • Careers
  • Privacy Policy
Gadyal Kashmir
  • Home
  • Kashmir
  • Jammu
  • World
  • National
  • Sports
  • Article
  • ePaper
No Result
View All Result
Gadyal Kashmir
Home Opinion Article

پُر امن کشمیر کےلئے انتہاپسندی کے خلاف نوجوان نسل

تحریر:ایڈوکیٹ صفا by تحریر:ایڈوکیٹ صفا
24/08/2026
A A
FacebookTwitterWhatsappTelegram

کسی بھی خطے کا مستقبل اس کے پہاڑوں، دریاؤں اور جغرافیائی حدود سے زیادہ وہاں پروان چڑھنے والی نوجوان نسل کے سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے کے انداز سے متعین ہوتا ہے۔ جموں و کشمیر کے تناظر میں یہ حقیقت خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ یہاں کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہی نوجوان آج اپنے مستقبل کے بارے میں زیادہ واضح سوچ رکھتے ہیں اور یہ سمجھ رہے ہیں کہ ترقی، تعلیم، روزگار اور امن ہی وہ راستہ ہے جو انہیں ایک بہتر زندگی کی طرف لے جاسکتا ہے۔ ماضی کے تلخ تجربات نے اس نسل کو یہ سکھایا ہے کہ تشدد اور انتشار کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوسکتے۔کئی دہائیوں تک وادی کے نوجوانوں کو مختلف نوعیت کے نظریاتی اثرات، تشدد اور بے یقینی کا سامنا رہا۔ سرحد پار سے چلنے والی انتہاپسندانہ سوچ اور تشدد کی ترغیب نے ایک عرصے تک نوجوان ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے جذبات کو بھڑکانے اور نوجوانوں کو ایک خاص بیانیے کی طرف راغب کرنے کی کوششیں بھی ہوتی رہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ نئی نسل نے ان تجربات سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ آج نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اپنے مستقبل کو تعلیم، ہنر، کاروبار، کھیل اور تخلیقی سرگرمیوں کے ساتھ جوڑنا چاہتی ہے، نہ کہ تشدد اور تباہی کے ساتھ۔اس تبدیلی کو صرف اعداد و شمار سے نہیں سمجھا جاسکتا۔ اس کا اصل اظہار اس وقت ہوتا ہے جب ایک نوجوان اپنے علاقے میں کسی تعمیری سرگرمی کا حصہ بنتا ہے، تعلیم کو ترجیح دیتا ہے، روزگار کا راستہ اختیار کرتا ہے یا اپنے ساتھیوں کو منفی سرگرمیوں سے دور رہنے کی ترغیب دیتا ہے۔ تشدد کے بجائے مکالمے کا انتخاب دراصل ایک فکری تبدیلی کی علامت ہے۔ نوجوان جب اپنے فیصلے خود کرنے لگیں اور کسی بھی جذباتی یا انتہاپسندانہ پروپیگنڈے کو تنقیدی نگاہ سے دیکھیں تو انتہاپسندی کے لیے سماجی گنجائش خود بخود کم ہونے لگتی ہے۔اس سلسلے میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی مقامی سرگرمیوں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ مکالمے، مصالحت، ذہنی دباؤ سے نمٹنے اور سماجی ہم آہنگی کے لیے مختلف تنظیموں اور نوجوان گروپوں کی کوششیں نئی نسل کو ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ یَک جہہ ری کنسیلی ایشن اینڈ ڈیولپمنٹ نیٹ ورک جیسے پروگراموں میں نوجوانوں کی شمولیت اس بات کی مثال ہے کہ نئی نسل محض مسائل پر گفتگو نہیں کرنا چاہتی بلکہ ان کے حل میں بھی اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ مختلف علاقوں اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے نوجوان جب ایک جگہ بیٹھ کر اپنے تجربات بانٹتے ہیں تو باہمی بداعتمادی کی دیواریں کمزور ہوتی ہیں۔جموں و کشمیر میں قائم نوجوانوں کے کلب بھی اس عمل کو نچلی سطح تک لے جانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ہزاروں نوجوان اگر کھیل، ثقافتی سرگرمیوں، سماجی خدمت، تعلیم اور مقامی مسائل کے حل کے لیے منظم ہوں تو ان کی توانائی معاشرے کی تعمیر میں استعمال کی جاسکتی ہے۔ دیہی علاقوں میں نوجوانوں کو رہنمائی فراہم کرنے والے رضاکار اور ہم عمر سرپرست بھی ایک مثبت ماحول پیدا کرسکتے ہیں۔ کسی نوجوان کو مایوسی سے نکال کر تعلیم، ہنر، کاروبار یا تخلیقی سرگرمی کی طرف لے جانا بظاہر ایک معمولی کوشش ہوسکتی ہے، مگر اس کے اثرات پوری زندگی پر مرتب ہوسکتے ہیں۔انتہاپسندی کا مقابلہ صرف سیکورٹی اقدامات سے نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے ایسے سماجی اور معاشی حالات پیدا کرنا بھی ضروری ہیں جہاں نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے کے مناسب مواقع ملیں۔ روزگار، تعلیم، کھیل، ٹیکنالوجی، کاروبار اور فنون کے شعبوں میں مواقع بڑھانا اسی حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔ جس نوجوان کے پاس اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے واضح راستہ موجود ہو، اسے تباہ کن نظریات کی طرف راغب کرنا نسبتاً مشکل ہوجاتا ہے۔اس پورے عمل میں کشمیری خواتین کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ نوجوان خواتین تعلیم، کاروبار، دستکاری، ثقافت اور سماجی سرگرمیوں میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ اپنی معاشی خودمختاری کے ساتھ وہ نہ صرف اپنے خاندانوں کو مضبوط بنا رہی ہیں بلکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کی قیادت بھی کررہی ہیں۔ گھر کے اندر ایک ماں، بہن یا بیٹی نوجوانوں کی سوچ اور رویے پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین کی تعلیم، معاشی خود کفالت اور سماجی شرکت کو امن کے وسیع عمل سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔کشمیر کی اپنی تہذیبی اور ثقافتی روایت بھی نوجوانوں کے لیے ایک مضبوط فکری بنیاد فراہم کرتی ہے۔ صدیوں سے وادی میں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان میل جول، باہمی احترام اور انسانی اقدار کی روایت رہی ہے۔ کشمیر کی صوفی اور رِشی روایت نے بھی محبت، برداشت اور انسان دوستی کو نمایاں مقام دیا۔ نئی نسل اگر اپنی اس تہذیبی میراث کو جدید تعلیم اور سائنسی سوچ کے ساتھ جوڑتی ہے تو وہ انتہاپسندانہ نظریات کے مقابلے میں ایک مضبوط فکری دیوار تعمیر کرسکتی ہے۔ کتاب، ادب، فن، موسیقی اور ثقافتی سرگرمیاں اسی لیے محض تفریح نہیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کے موثر ذرائع بھی ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوانوں پر صرف مسائل کے حل کی ذمہ داری نہ ڈالی جائے بلکہ انہیں فیصلوں اور ترقی کے عمل میں حقیقی شراکت دار بنایا جائے۔ ان کی آواز سنی جائے، ان کے خیالات کو اہمیت دی جائے اور انہیں اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ نوجوانوں کا اعتماد جیتنا دراصل آنے والے کل کا اعتماد حاصل کرنا ہے۔جموں و کشمیر کی نئی نسل کے سامنے ایک اہم انتخاب موجود ہے۔ وہ ماضی کے زخموں کو اپنی شناخت بنا سکتی ہے یا ان تجربات سے سبق حاصل کرکے ایک مختلف مستقبل تعمیر کرسکتی ہے۔ موجودہ حالات میں تعلیم، ہنر، کھیل، کاروبار، ثقافت اور سماجی خدمت کی طرف بڑھتا ہوا رجحان امید کی کرن ہے۔ جب نوجوان قلم، علم، محنت اور تخلیق کو اپنی طاقت بناتے ہیں تو تشدد کی جگہ تعمیر، نفرت کی جگہ مکالمہ اور مایوسی کی جگہ امید جنم لیتی ہے۔پُرامن جموں و کشمیر کا خواب کسی ایک ادارے یا حکومت کی کوشش سے پورا نہیں ہوسکتا۔ یہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے، لیکن اس سفر میں سب سے اہم کردار نوجوان نسل ہی ادا کرسکتی ہے۔ اگر نوجوان اپنے مستقبل کا راستہ خود متعین کرنے کے لیے علم، برداشت اور مثبت سوچ کو اختیار کرتے رہیں تو وادی کی آنے والی نسلیں ماضی کے انتشار کے بجائے امن، ترقی اور خوشحالی کی داستان لکھ سکتی ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر کشمیر کا نوجوان صرف اپنے مستقبل کو محفوظ نہیں کرے گا بلکہ پورے خطے کے مستقبل کو بھی نئی سمت دے سکتا ہے۔

 

Related posts

ترنگے کے سائے میں بدلتی وادی کی تصویر

24/08/2026

وادی کشمیر میں تعلیم کی نئی روشنی

24/08/2026
Previous Post

خوشحال کشمیر، دنیا کے سامنے ابھرتی ہوئی ایک نئی تصویر

Next Post

کھیلوں کی دنیا میں کشمیر کا ابھرتا ہوا نام

تحریر:ایڈوکیٹ صفا

تحریر:ایڈوکیٹ صفا

Related Posts

Article

ترنگے کے سائے میں بدلتی وادی کی تصویر

by تحریر:ایڈوکیٹ صفا
24/08/2026
0

قارئین ، یومِ آزادی کا جشن محض ایک قومی تہوار نہیں بلکہ اپنے ماضی کو یاد کرنے اور مستقبل کے...

Read more

وادی کشمیر میں تعلیم کی نئی روشنی

24/08/2026

کھیلوں کی دنیا میں کشمیر کا ابھرتا ہوا نام

24/08/2026

خوشحال کشمیر، دنیا کے سامنے ابھرتی ہوئی ایک نئی تصویر

24/08/2026
From the Heart of Kashmir to the World: Why TEDxDalLake Matters

From the Heart of Kashmir to the World: Why TEDxDalLake Matters

23/08/2026
Next Post

کھیلوں کی دنیا میں کشمیر کا ابھرتا ہوا نام

  • About us
  • Contact
  • Our Team
  • Advertise
  • Careers
  • Privacy Policy
e-mail: [email protected]

© 2022 Gadyal - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Kashmir
  • Jammu
  • World
  • National
  • Sports
  • Article
  • ePaper

© 2022 Gadyal - Designed and Developed by GITS.