پُر امن احتجاج کرنے والے مردوخواتین کی آواز دبنانے کےلئے طاقت کابے تحاشہ استعمال
جنوب مغربی پاکستان کا صوبہ بلوچستان مختلف تنازعات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات سے متاثر ہے۔ بلوچستان میں پُر امن مظاہرین پر بدترین مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔ پاکستانی فوج اورحکمرانوںکے خلاف اپنی ناراضگی کااظہارکرنے والوں اور استبدادکے خلاف آواز اُٹھانے والوںکو جبری گمشدگی اورحراستی ہلاکتوںکاسامناہے۔ بلوچستان میں سب سے اہم خدشات میں سے ایک جبری گمشدگیوں کا مسئلہ ہے۔ متعدد کارکنوں، صحافیوں اور دانشوروں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی ہے، جنہیں مبینہ طور پر سیکورٹی فورسز یا انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اغوا کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایسے کیسز کافی زیادہ ہیں۔ان حراستی گمشدگیوں اور حراستی ہلاکتوں کے خلاف جب عوام جن میں مرد وخواتین اور بچے شامل ہوتے ہیں تو پاکستانی فورسز اورپولیس ان نہتے عوام پر سخت مظالم ڈھاتے ہوئے بے تحاشہ ان کی گرفتاری عمل میںلائی جاتی ہے اور ان پر سرراہ ڈنڈے برسائے جاتے ہیں ۔ بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ان واقعات میں مشتبہ عسکریت پسندوں یا علیحدگی پسند تحریکوں سے وابستہ افراد کو ہلاک کرنا شامل ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے احتساب کو یقینی بنانے کے لیے ان مقدمات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔تاہم جو لوگ ان مظالم کے خلاف آوازبلند کرتے ہیں انہیںگرفتار کرکے ان کے خلاف شدید طرح کے الزامات عائد کئے جاتے ہیں اور زیادہ تر انسانی حقوق کے کارکنان ، صحافی اور سیاسی لیڈران حراستی گمشدگی کے شکارہوئے ہیں۔فوج کی جانب سے عوام پر مظالم ڈھائے جانے کے بعد بلوچستان میں جاری تنازعات نے شہریوں کی ایک قابل ذکر تعداد کو بے گھر کر دیا ہے۔ یہ نقل مکانی فوجی کارروائیوں، سیکورٹی فورسز اور مسلح گروپوں کے درمیان جھڑپوں اور شہری آبادیوں پر حملوں کے نتیجے میں ہوئی ہے۔بلوچستان میں آزادی اظہار اور پریس کی آزادی پر پابندیاں عائد ہیں۔ صحافیوں اور میڈیا کے عملے کو دھمکیاں، ہراساں کیے جانے اور تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو خطے کی صورتحال پر آزادانہ طور پر رپورٹ کرنے کی ان کی صلاحیت کو روکتا ہے۔کسی بھی صحافتی ادارے کو حق اور سچ نہ لکھنے کی آزادی ہے اور ناہی میڈیا پر دکھانے کی اجازت ہے صرف سرکاری اداروں کی خبریں شائع کروائی جاتی ہے اور جو میڈیا ادارے سرکاری من مانی سے انکار کرتے ہیں ان کے خلاف ایسی پابندیاں عائد کی جاتی ہے کہ وہ مجبور ہوکر وہی سب کچھ شائع کرتے ہیں جو سرکار اور فوج کے حق میں ہو۔مجال ہے کسی صحافی کی کہ کوئی فوج کی ان جبرو ظلم کی کہانیوں کو منظر عام پر لانے کی کوشش کرے ۔ بلوچستان میں پاک فوج کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مبینہ مظالم کا معاملہ ایک متنازعہ اور مضحکہ خیز موضوع ہے۔ بے شمار انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی اطلاع دی گئی ہے، جن میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، تشدد، اور من مانی گرفتاریاں اور حراستیں شامل ہیں، جو مبینہ طور پر بلوچستان میں پاکستانی فوج نے کی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے ان زیادتیوں کو دستاویزی شکل دی ہے اور احتساب اور انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔عالمی انسانی حقوق کے اداروںکی جانب سے بار بار بلوچ قوم پر مظالم پر پاکستانی قیادت کوتنقید کانشانہ بنایا ہے لیکن پاکستانی قیادت جو فوج کے زیر کنٹرول ہے اس معاملے میںچپ سادھے بیٹھی ہے ۔ پاکستانی فوج پر سال 2022میں یہ الزام لگایا گیاتھاکہ فوج نے بلوچستان میں 195افراد کو قتل کیا اور 629افرادمبینہ طور پر لاپتہ کیا گیا ہے ۔ رپورٹ میںیہاں تک کہا گیاہے کہ فوج کی جانب سے خواتین اور بچوں پر بھی ظلم وتشدد کیا جارہا ہے ۔ بلوچ نیشنلسٹ پارٹیوں پر مکمل پابندیاں لگائی گئی ہیں اور صرف پاکستان آرمی کی حامی سیاسی جماعتیں آزادی کا مزہ لے رہی ہیں۔ اس سے بلوچستان اور سندھ دونوں میں سیاسی خلا پیدا ہو گیا ہے۔فوج کی حامی جماعتیںسرکاری مراعات حاصل کررہی ہیں تاہم بلوچستان کی مقامی جماعتیںجو بلوچ قومی کا نظریہ رکھتی ہے پر سیاسی سرگرمیوںکی پابندی لگائی گئی ہے اور ان کے لیڈران کو جیلوں میںقید کیا گیا ہے ۔بلوچ کو 1947 میں پاکستان بننے سے پہلے ہی نیم خود مختار حیثیت حاصل تھی۔ اس خطے کو اپنی زبانوں اور ثقافتوں پر فخر ہے۔ بلوچی نسل پاکستان، افغانستان اور ایران کے بہت سے علاقوں میں اپنی وجودگی کے نشانات رکھتی ہے۔1950 کی دہائی سے پاکستان میں بلوچی عوام بلوچستان کی آزادی کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ، اس مطالبے کو مزید خود مختاری، معاشی آزادی اور بنیادی حقوق کے تحفظ تک محدود کر دیا گیا ہے۔پاکستانی فوج نے بلوچی کے سماجی تانے بانے کو تباہ کرنے میں اپنی کارکردگی کا ثبوت دیا ہے، لیکن وہ صوبے میں اپنی رٹ نافذ کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ اس نے خطے میں نسلی کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔ بلوچ سیاسی رہنماو¿ں، انسانی حقوق کے کارکنوں، وکلاءصحافیوں اور طلبہ رہنماو¿ں کو جبری گمشدگی، اغوا، گرفتاریوں، تشدد اور دیگر ناروا سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔عالمی سطح پر اب بلوچستان کے حق میں آوازیںاُٹھ رہی ہے تاہم پاکستانی فوج بلوچ عوام پر مظالم ڈھانے سے پیچھے نہیں ہٹتی۔





