Tuesday, June 23, 2026
  • About us
  • Contact
  • Our Team
  • Advertise
  • Careers
  • Privacy Policy
Gadyal Kashmir
  • Home
  • Kashmir
  • Jammu
  • World
  • National
  • Sports
  • Article
  • ePaper
No Result
View All Result
Gadyal Kashmir
Home Opinion Article

پیش نوشت : ہم سب جانبدار ہیں ،اس لۓ جذباتی ہونے کی قطعی ضرورت نہیں بلکہ سنجیدگی کے ساتھ معاملات سمجھنے کی ضرورت ہے

گزرگاہ خیال : 15

Gadyal Desk by Gadyal Desk
15/01/2023
A A
پیش نوشت : ہم سب جانبدار ہیں ،اس لۓ جذباتی ہونے کی قطعی ضرورت نہیں بلکہ سنجیدگی کے ساتھ معاملات سمجھنے کی ضرورت ہے
FacebookTwitterWhatsappTelegram

Related posts

THE BEAST OF KASHMIR: THE JOURNEY OF TUFAYL AHMAD DAR

THE BEAST OF KASHMIR: THE JOURNEY OF TUFAYL AHMAD DAR

23/06/2026

Why Nepal’s Next Big Choice Is Strategic, Not Political

22/06/2026

ایک پہلو یہ بھی تصویر کا  محمد سلیم سالک  دسویں جماعت کی ”گلستان ِاردو“ میں پہلی بار یہ پڑھا کہ ادب اور سائینس میں کیا فرق ہے۔دسویں جماعت کے طالب علم کی عمر ہی کتنی ہوتی ہے کہ وہ ادب اور سائینس کی اصطلاحوں کو سمجھ سکے۔جبکہ میرے نزدیک ادب کے معنی اخلاق، طریقہ اور کردار تک ہی محدود تھے۔۔ایم اے کے دوران اساتذہ نے ”ادب“ کی اصطلاح سمجھاتے ہوئے کہا کہ ادب تین چیزیوں کا مجموعہ ہے،جس میں جذبات،احساسات اور تجربات شامل ہوتے ہیں۔آگے چل کر میری معلومات میں یہ اضافہ ہوا کہ نظریاتی طور پرلٹریچر ادب برائے ادب اورادب برائے زندگی ہوتا ہے۔گویا یہ باتیں میرے ذہن میں محفوظ ہوگئیں۔ حال ہی میں ایک ٹی وی چینل پر ”ادب برائے سیاست“ کے موضوع پر بحث و مباحثہ چل رہا تھا،جس میں حقائق کی نشاندہی بڑی بے باکی سے ہورہی تھیں کہ موجودہ دور میں ”ادب برائے سیاست“ کا رجحان عام ہورہا ہے۔جوسوالات  اس مباحثہ  میں ابھرائے گئے ان کاخلاصہ کچھ یوں ہے کہ کیا ایک قلمکار آگے جانے کے لئے سیاست کا سہارا نہیں لیتا،انعام پانے کے لئے کمیٹی کے ممبران کو شیشے میں نہیں اتاراجاتا،مشاعرے میں شرکت کرنے کے لئے منسٹر صاحبان سے سفارش نہیں کرائی جاتی،کتاب کی رسم رونمائی میں کسی سیاست داں کو ایوان صدارت میں بٹھاکر رونق نہیں بخشتی جاتی۔اب تو صورتحال یہ ہے کہ کتاب کا انتساب بھی سیاست زدہ ہوچکا ہے۔فلیب، تقریظ،پیش لفظ وہ بھی کسی ایسے بیروکریٹ سے لکھنے کا رجحان چل پڑا ہے جو مستقبل میں کوئی فائدہ پہنچا سکے۔ لابی ازم کا جال اتنا پھیل چکا ہے کہ اب ادیبوں کا دائرہ ”من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو“ کے مصداق سمٹ چکا ہے۔یک نفری تنظیمیں پریس نوٹ تک محدود ہیں اور اپنے ذاتی منفعت کے لئے لٹریچرکے ٹاٹیل کا استحصال کیا جاتا ہے۔ ایسی کئی باتیں ہیں جن کا عمل دخل صرف اور صرف سیاست کی مرہون منت ہے۔ اسی لئے موجودہ دور میں جونظریہ پنپ رہا ہے وہ صرف”ادب برائے سیاست“ ہے۔ سیاست زدہ ادیب اپنی انانیت کی تکمیل کے لۓ کسی حد تک جاسکتا ہے ۔   ابھی ادب میں سیاست کی بیجا مداخلت کی بات چل رہی تھی کہ مجھے اردو کے نامور شاعر فراق گھورکھپوری کا ایک انانیت بھرا واقعہ یادآیا جس میں انہوں نے حسن نعیم کے شعری مجموعے ”حرف ِدل“ کا مقدمہ لکھنے کی حامی بھری۔جب حسن ؔنعیم نے فراق ؔصاحب سے استفسار کیا کہ مجھے وہ اپنے تاثرات سے نوازیں جو انہوں نے میری کتاب کے سلسلے میں لکھے ہیں۔فراقؔ صاحب نے درجواب کہا کہ بھائی جلدی کیا ہے پہلے میرے کچھ تازہ اشعار سنو۔پھر کیا تھا کہ فراق ؔصاحب اپنے اشعار سنانے میں منہمک ہوگئے اور حسن ؔنعیم داد دیتے رہے۔اس طرح یہ سلسلہ تین دنوں تک چلتا رہا۔جب فراقؔ صاحب نے ڈھائی ہزار اشعار سنانے کے بعد حسنؔ نعیم سے پوچھا کہ اردو کا بڑا غزل گو شاعر کون ہے تو حسنؔ نعیم نے برجستہ جواب دیا کہ میر تقی میرؔ۔یہ سنتے ہی فراق ؔصاحب کے چہرے سے ہوائیں اُڑنے لگیں،پھر مزید پوچھا اب اگر دو نام لینے ہو تو کس کس کا نام لو گے،حسن نعیم نے میرؔ کے بعد غالب ؔ کا نام لیا۔پھر کیا تھا فراقؔ صاحب نے تعداد پانچ تک بڑادی،لیکن پھر بھی انہوں نے فرا قؔ کا نام نہیں لیا۔فراقؔ صاحب کو غصہ آیا اور کہا کیا آپ چاہتے ہیں کہ اسی سخن فہمی اور سخن دانی کی بنیاد پر میں آپ کی کتاب کا مقدمہ لکھوں۔ اس واقعہ سے صاف عیاں ہوتا ہے کہ اب ادیب سیاست کا سہارا لے کر اپنی کرسی پر براجمان رہنا چاہتا ہے،اس با ت کا اعتراف وارث علوی نے کئی سال پہلے کیا تھا کہ اب ادب میں بھی بڑے بھائی لوگوں کا سکہ چلتا ہے اس بات کی تصدیق مرحوم علی محمد لون کے اس خط سے ہوتی ہے جو انہوں نے ڈاکٹر بشیر گاش ؔ کے نام لکھا ہے کہ ”ہم نہیں چاہتے کہ کوئی ادب یا شاعری کے میدان میں ہماری ہمسری کا دعویٰ کرے،اس سے ہماری اہمیت اور شہرت دونوں میں خلل پڑنے کا اندیشہ رہتا ہے،ہماری یہ کوشش رہی ہے کہ آپ اور آپ جیسے دوسرے نوجوانوں کو ادب کے خارزار اور شاعری کے ریگزار سے ڈراتے رہیں،آپ کو راہ ِ ادب سے بھٹکائیں،آپ کے دل میں وسوسہ، ڈر،واہمے،اور شکوک پیدا کریں،اچھی بری کوشش اور اچھے برے عمل میں کیڑے نکال کر آپ کو (frustrate) کریں۔بھئی ایسا نہ کریں تو ہمارے نام لیواؤں میں پھر کون رہے گا۔آپ نے بڑھ کر بازی جیت لی تو ہم اپنی ہار پر مطمین کیسے ہوں گے؟“ اس میں دو رائیں نہیں کہ مرحوم علی محمد لون ایک جنیوٸن ادیب تھے لیکن ایک بڑے ادیب کے مافی الضمیر کو سمجھانے کے لۓ جرأت رندانہ کا مظاہرہ کرتے ہوۓ حقیقت کی عکاسی کی ہے جس کی مثال شاید ہی ادبی تاریخ میں ملے گی ۔  اب لٹر یچر میں انفرادی سطح سے لے کر اجتماعی سطح تک سیاست کا عمل دخل ہوچکا ہے۔پھر بھی حتی المکان اک قلم کار کو چایئے کہ وہ سیاست سے دامن کشا ہوکر علم وادب کا دامن پکڑے اوراپنی خداداد صلاحیتوں کو تخلیقی عمل کے لئے وقف رکھیں۔کیونکہ قلم کار اپنے ادبی قد وقامت پر زندہ رہتا ہے نہ کہ سیاست کے ہتھ کنڈوں سے۔ بقول شاعر    ان کا جو کام ہے وہ اہل سیاست جانے       اپنا پیغام ِ محبت ہے جہاں تک پہنچے

Previous Post

Snow Ski Training for Srinagar Girls Gets Underway at Gulmarg

Next Post

بھاری برف باری کے بعد کرناہ کپوارہ شاہراہ بند حاملہ خاتون کو علاج ومعالجہ کےلئے وادی منتقل کیا لوگوں نے ڈی سی کپوارہ کی کوششوں کو سراہا

Gadyal Desk

Gadyal Desk

Related Posts

THE BEAST OF KASHMIR: THE JOURNEY OF TUFAYL AHMAD DAR
Article

THE BEAST OF KASHMIR: THE JOURNEY OF TUFAYL AHMAD DAR

by Gadyal Desk
23/06/2026
0

  In a world where success is often measured by fame and recognition, Tufayl Ahmad Dar chose a different path—one...

Read more

Why Nepal’s Next Big Choice Is Strategic, Not Political

22/06/2026

General Who Turned 50,000 Drones Into a Doctrine

22/06/2026
How Gen Upendra Dwivedi Built India’s Drone Army

How Gen Upendra Dwivedi Built India’s Drone Army

22/06/2026
یوگا: بنی نوع انسان کے لیے ایک انمول تحفہ

Yoga: India’s Timeless Gift to A Healthier and More Balanced World

19/06/2026
Next Post
بھاری برف باری کے بعد کرناہ کپوارہ شاہراہ بند حاملہ خاتون کو علاج ومعالجہ کےلئے وادی منتقل کیا لوگوں نے ڈی سی کپوارہ کی کوششوں کو سراہا

بھاری برف باری کے بعد کرناہ کپوارہ شاہراہ بند حاملہ خاتون کو علاج ومعالجہ کےلئے وادی منتقل کیا لوگوں نے ڈی سی کپوارہ کی کوششوں کو سراہا

  • About us
  • Contact
  • Our Team
  • Advertise
  • Careers
  • Privacy Policy
e-mail: [email protected]

© 2022 Gadyal - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Kashmir
  • Jammu
  • World
  • National
  • Sports
  • Article
  • ePaper

© 2022 Gadyal - Designed and Developed by GITS.