(پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے ضلع نیلم میں دودنیال سے آگے)، کشمیری پنڈتوں کی مشہور عبادت گاہ”شاردا پیٹھ“ واقع ہے۔ کرتارپورصاحب راہداری کے کھلنے سے کشمیری ہندوو ¿ں کی اُمیدیں بڑھ گئی ہیں کہ اسی طرح شاردا پیٹھ کی یاترا بھی کھول دی جائے گی۔2018 میں کرتارپور راہداری کے افتتاح کے موقع پر پاکستان کے وزیر اعظم کی جانب سے اس یاترا کے افتتاح پر غور کرنے کے وعدہ کیاگیاتھا لیکن یہ ادھورا رہ گیا اور کشمیری پنڈتوں کا سب سے اہم مذہبی مقام 1974 میں تقسیم کے بعد سے لاوارث پڑا ہے۔
حال ہی میں کشمیر میں خیر سگالی کو فروغ دینے کے لیے شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں لائن آف کنٹرول کے قریب شاردا مندر اور مرکز کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ مقامی مسلمانوں (جادہ تارا قبیلے) نے مندر کی تعمیر کے لئے زمین کی پیشکش میں کافی مدد کی ہے۔ مسلمانوں کا یہ اشارہ کشمیری ہندوو ¿ں کے تئیں اتحاد اور باہمی احترام کا مظہر ہے تاکہ بعد کے لوگ شاردا پیٹھ کی اپنی صدیوں پرانی یاترا کو بحال کر سکیں۔ بتایا جاتا ہے کہ شاردا پیٹھ کی مقدس یاترا کا آغاز کپواڑہ ضلع میں واقع اس مذہبی مقام سے ہوگا۔ چنار کور کے سابق کور کمانڈر، لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے، اے وی ایس ایم، وی ایس ایم نے بھی کپواڑہ ضلع کے لوگوں کے اس تعاون پر مبنی رویہ کی تعریف کی ہے اور مزید کہا کہ کپواڑہ سیاحت کا اگلا مرکز بننے جا رہا ہے۔ مندر کے علاوہ ایک گرودوارہ اور ایک مسجد بھی بنائی جا رہی ہے۔ اس سے پوری دنیا بالخصوص پاکستان کو پیغام جائے گا کہ کشمیر میں صدیوں پرانی اخوت کی مثال آج بھی زندہ ہے۔
شاردا پیٹھ، یا شاردا کی نشست جس کا نام حکمت کی دیوی کے نام پر رکھا گیا ہے، سرسوتی کو ایک قدیم ہندو مندر یونیورسٹی سمجھا جاتا ہے جس کی بنیاد اشوک کے دور میں رکھی گئی تھی۔ اس کی ابتدا کے بارے میں متضاد نظریات ہیں، لیکن یہ تجویز کیا گیا ہے کہ تعلیم کا یہ تاریخی مقام ایک بار نالندہ اور تکشیلا میں سیکھنے کے قدیم مقامات کے ساتھ5000 سال پرانا ہے۔ شاردا پیٹھ یاترا کے 3 مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے جس کی براعظمی اہمیت ہے،دوسرے2مارٹنڈ سورج مندر اور لارڈ امرناتھ کا مقدس غار۔ اسے کشمیری پنڈتوں کی ’کلدیوی‘ (اصل دیوتا) اور وادی کشمیر کے لوگ’کشمیرا پورنواسینی‘کے طور پر مانتے ہیں۔ یہ 18 مہا شکتی پیٹھوں میں سے ایک ہے یا پورے برصغیر میں ایک عظیم شکتی پیٹھ ہے جو ہندو دیوی ستی کے گرے ہوئے جسم کے اعضاءکی یادگار ہے۔ بہت سے تاریخ دان اور فلسفی اس مندر کو یاترا کے طور پر جاتے تھے۔ ان کے مطابق، یاتری مندر میں داخل ہونے سے پہلے مدھومتی کی’مقدس‘ندی میں غسل کرتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ مندر سیکھنے کی علامت کے طور پر کام کرتا ہے۔
پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں2005 میں آنے والے زلزلے نے مقدس مقام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد شاردا پیٹھ کے بارے میں شاید ہی کوئی خبر آئی ہو۔ اس کے باوجود کشمیری ہندوو ¿ں کی پرعزم کوششیں اس ڈھانچے کو اس کی قدیم حالت میں بحال کر دیں گی۔شاردا پیٹھ کے افتتاح کےلئے یہ الفاظ گونج رہے ہیں، جس کے دروازے تقسیم ہند کے بعد سے حکومت پاکستان نے ہندوستانی ہندوو ¿ں کے لئے بند کر رکھے ہیں۔ تحریک کو زندہ رکھنے کے لیے، سیو شاردا کمیٹی کشمیر (SSCK) جارحانہ انداز میں اس مسئلے کو حکومتوں اور اقوام متحدہ دونوں کے سامنے اٹھا رہی ہے۔ بھارتی ہندو سالانہ شاردا یاترا کو شامل کرنے کے لیے ایل او سی پرمٹ رولز میں ترمیم کا مطالبہ کر رہے ہیں، جسے حکومت پاکستان نے مسترد کر دیا ہے۔ پاکستانی حکومت واضح وجوہات کی بنا پر کشمیری ہندوو ¿ں کی بار بار کی درخواستوں پر آواز نہیں اٹھا رہی ہے، کیونکہ یہ مزار وادی نیلم میں واقع ہے، جو لائن آف کنٹرول کے قریب انتہائی حساس ذیلی شعبوں میں سے ایک ہے۔ پاکستان کی طرف، اس ذیلی سیکٹر کو کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں دہشت گردوں کی دراندازی کےلئے دہشت گردوں کے تربیتی کیمپ اور لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
پاکستان کی طرف سے پلوامہ حملہ جیسی پیش رفت اس مقدس یاترا کے احیاءکے لئے مثبت اشارے نہیں دیتی۔ ان کے وزیر اعظم جناب عمران خان کی برطرفی کے بعد پاکستان کی حالت انتہائی نازک ہے کیونکہ اس کی معاشی ترقی بھی ہر وقت کم ہے۔ اس وقت تک کوئی سفارتی تعلق قائم نہیں ہو گا جب تک پاکستان میں مستحکم حکومت نہیں ہو گی۔دونوں اقوام کے درمیان تقسیم کے بعد کی تاریخ کے باوجود، کپوارہ کے شاردا مندر سے پاکستان مقبوضہ کشمیر میں شاردا پیٹھ کے لئے اس مقدس یاترا کا افتتاح دونوں اقوام کے درمیان باہمی احترام کو فروغ دینے اور افہام و تفہیم کو فروغ دینے میں چاندی کی لکیر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس یاترا کے احیاءسے کچھ مثبت پیش رفت ہونے کا امکان ہے کیونکہ پاکستان کو پرامن یاترا کے لیے اس ذیلی سیکٹر میں واقع دہشت گردوں کے تربیتی کیمپوں کو ہٹانا پڑے گا، جس سے دراندازی کی کوششوں کو ہمیشہ ناکام بنایا جائے گا اور کپواڑہ ضلع میں دیرپا امن قائم ہوگا۔ اس مقدس زیارت کے دوبارہ شروع ہونے سے اس علاقے کے مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے بے پناہ مواقع پیدا ہوں گے جو ان کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ یہ کشمیری ہندوو ¿ں کی طرف ایک بہت بڑا اشارہ ہوگا جنہوں نے ان تمام سالوں میں بہت کچھ برداشت کیا ہے۔ یہ اقدام کشمیر کے تمام نسلی گروہوں کے درمیان پائیدار امن اور ہم آہنگی لائے گا۔
کسی زمانے میں کلہانہ (تاریخ دان اور ’راجترنگینی‘ کے مصنف)، آدی شنکراچاریہ، ویروتسنا (بدھسٹ اسکالر) وغیرہ جیسے علماءسے بھرا ہوا ایک قصبہ جو اپنے عروج کے زمانے میں اعلیٰ علم اور عقل کا مرکز تھا کھنڈرات میں پڑا ہوا تھا۔ جو دہائیوں سے نہ ہو سکا، کیا مستقبل قریب میں ہو گا؟ کیا کشمیری ہندوو ¿ں کی پرعزم اور مسلسل کوششیں کبھی روشنی کی روشنی دیکھ سکیں گی جس کا ہر کوئی منتظر ہے۔



