ایل جی منوج سنہا نے خواتین کو با اختیار بنانے کیلئے کوشاں ، عوامی حلقوں کی سراہنا
جموں وکشمیر انتظامیہ خواتین کو بااختیار بنانے کی خاطر کئی سطحوں پر کا م کر رہی ہیں جس کے زمینی سطح پر مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ قوم کی ترقی کا دارومدار خواتین کو بااختیار بنانے پر منحصر ہے لہذا موجود ایل جی منوج سنہا اس کی اور خصوصی توجہ مبذول کر رہے ہیں۔ خواتین کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی خاطر انتظامیہ کی جانب سے بنیادوں پر سطح پر کام ہو رہا ہے جس کی وجہ سے آئندہ دنوں کے دوران اس حوالے سے اہم پیش رفت کا بھی امکان ہے۔ ایل جی انتظامیہ کی جانب سے خواتین کو با اختیار اور اُنہیں اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی خاطر جس طرح سے کام ہو رہا ہے اُس کی ہر سطح پر پذیرائی حاصل ہو رہی ہیں کیونکہ خواتین کے ساتھ ہمیشہ نا روا سلوک روارکھا جارہا تھا لیکن ایل جی منوج سنہا کی ذاتی مداخلت کے باعث اب جموں وکشمیر میں بھی خواتین کو با اختیار بنانے اور اُنہیں دیگر شعبوں میں شرکت کرنے کی خاطر سہولیات پیدا کی جارہی ہیں۔ موجودہ انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ جموں وکشمیر میں خواتین کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ اُنہیں روزگار کے مواقعے فراہم کرنے کی خاطر زمینی سطح پر اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں اس کے لئے ایل جی نے بدھ کے روز ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی قیادت کی جس دوران کئی اہم فیصلے لئے گئے۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ حکومت گورننس، کاروبار اور دیگر شعبوں میں خواتین کی شرکت کی حوصلہ افزائی کے لیے سہولیات پیدا کرنے کے لیے فعال مداخلت کر رہی ہے۔سنہا نے یہاں راج بھون میں جموں و کشمیر کے پہلے خواتین سائیکلنگ کلب — ویمن ڈو رائیڈ — کے ممبران سے ملاقات کی۔سنہا نے کہا، “حکومت گورننس، کاروبار اور دیگر شعبوں میں خواتین کی شرکت کی حوصلہ افزائی کے لیے مناسب انفراسٹرکچر اور سہولیات کی تعمیر کے لیے فعال مداخلتیں کر رہی ہے”۔سنہا نے کہا کہ کامیاب ہونے کے لیے سائیکل سوار کی ہمت اور عزم دوسرے مختلف شعبوں میں کامیابی کی کہانیاں لکھ رہا ہے۔انہوں نے معاشرے میں مثبت سوچ، صنفی مساوات، خواتین کو بااختیار بنانے، ہنر کے اشتراک اور ملک کی سماجی ترقی میں انمول شراکت میں کلب کی کوششوں کو سراہا۔بات چیت کے دوران، کلب کے اراکین نے لیفٹیننٹ گورنر کو مختلف سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیا جن کے ذریعے وہ سماجی وجوہات کے بارے میں بیداری پیدا کرتے ہیں۔انہوں نے خواتین سائیکلسٹوں اور کھیلوں کے شائقین کے تحفظات پر بھی بات کی۔عزت مآب ایل جی کی جانب سے ایسے پروگرام منعقد کرنے سے واقعی میں خواتین کو حوصلہ ملے گا ااُنہیں روزگار کے مواقعے بھی فراہم ہو نگے۔ حال ہی میں ایل جی انتظامیہ نے میرج اسکیم کو بھی لاگو کیا جس کے تحت اب نئی نویلی دلہن کو حکومت کی جانب سے ایک بھر پور امداد فراہم ہوگا اور اُن پیسوں سے وہ خوشحال طریقے سے شادی بیاہ کی تقریبات کا انجام دے پائیں گے۔ غرض ایل جی منوج سنہا نے جموں وکشمیر کی تعمیر وترقی سے لے کر ہر شعبے کی اور توجہ مبذول کی ہو ئی ہیں جس وجہ سے یہاں کے لوگ اُن کے کام کاج سے کافی زیادہ خو ش نظر آرہے ہیں۔ سابقہ حکومتوں نے آج تک اتنے کام نہیں کئے جتنے ایل جی منوج سنہا نے پچھلے دو برسوں کے دوران کیا ۔ عوامی فلاح و بہبود کی خاطر مختلف اسکیموں کو منظر عام پر لایا گیا، بیس ہزار کے قریب بے روزگار نوجوانوں کو سرکاری نوکریاں فراہم کی گئیں جبکہ اسی ماہ مزید پانچ ہزار اسامیو کو پر کرنے کی خاطر اُمیدواروں سے درخواستیں طلب کی جارہی ہیں۔جموں وکشمیر میں قیام امن کی خاطر ایل جی منوج سنہا کی ذاتی کاوشوں کی ملکی سطح پر بھی سراہنا کی جارہی ہیں۔ گزشتہ ماہ مرکزی وزیرداخلہ نے برملا اس بات کا اظہار کیا کہ جموں وکشمیر کے ایل جی نے یوٹی میں امن و امان کے قیام کی خاطر اچھا کام کیا ہے اور اس کے زمینی سطح پر ثمر آور نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ اُمید یہ بھی کی جارہی ہیں کہ اسی ماہ وزیر اعظم کے دورے جموں وکشمیر کے دوران کئی اہم اعلانات متوقع ہے جس میں خاص کر ڈیلی ویجروں کی نوکریاں مستقل کرنے کا بھی فیصلہ لیا جاسکتا ہے اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ جموں وکشمیر کے لوگوں کیلئے عید سے قبل بہت بڑا تحفہ ثابت ہوگا کیونکہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین پچھلے 25برسوں سے اُن کی نوکریاں مستقل کرنے کے حوالے سے احتجاج کر رہے ہیں لیکن اُمید کی جاسکتی ہے کہ ڈیلی ویجروں کا مسئلہ رواں ماہ کے دوران ہی حل ہوگا۔
وادی کشمیر میں وقف اثاثوں کی صحیح نگرانی اور ترقی ناگزیر
وقف املاک نہ کسی مذہبی لیڈر کی ملکیت ہوتی ہے اور ناہی کسی خاص انجمن کی ملکیت ہے بلکہ یہ...
Read more






