مولانامحمد عبدالحفیظ اسلامی
سینئر کالم نگارو آزاد صحافی۔ فون نمبر:9849099228
(۲)
ارتقائی منازل کا آغاز سفر
نبی کریم ﷺ کو نبوت سے سرفراز فرمائے جانے کے بعد 12سال گذرچکے تھے اور اس وقت آپ کی عمر شرف 52 برس کو پہنچ چکی تھی اور اس وقت آپ حرم کعبہ میں سو رہے تھے کہ اچانک حضرت جبرائیل امین (فرشتے) نے آکر آپ کو جگایا۔ نیم خفتہ ابر نیم بیدار حالت میں اٹھا کر آپ کو زمزم کے پاس لے گئے۔ سینہ چاک کیا ‘ زمزم کے پانی سے اس کو دھویا پھر اسے حلم اور برد باری اور دانائی اور ایمان و یقین سے بھردیا۔ اس کے بعد آپ کی سواری کے لئے ایک جانور پیش کیا جس کا رنگ سفید اور قد خچر سے چھوٹا تھا، برق کی رفتار سے چلتا تھا اور اسی مناسبت سے اس کا نام براق تھا۔ پہلے انبیاء بھی اس نوعیت کے سفر میں اسی سواری پر جایا کرتے تھے۔ جب آپ سوار ہونے لگے تو وہ چمکا ‘ جبرئیل نے تھپکی دی اور کہا دیکھ کیا کرتا ہے آج تک محمد ﷺ سے بڑی شخصیت کا کوئی انسان تجھ پر سوار نہیں ہوا ہے۔ پھر آپ اس پر سوار ہوئے اور جبرئیل آپ کے ساتھ چلے۔ پہلی منزل مدینہ کی تھی جہاں اتر کر آپ نے نماز پڑھی ‘ جبرئیل نے کہا اس جگہ آپ ہجرت کرکے آئیں گے۔
دوسری منزل طور سینا کی تھی جہاں خدا تعالیٰ نے حضرت موسی علیہ السلام سے ہم کلام ہوا۔ تیسری منزل بیت اللحم تھی جہاں حضرت عیسی علیہ السلام پیدا ہوئے۔ چوتھی منزل پر بیت المقدس تھا جہاں براق کا سفر ختم ہوا۔ بیت المقدس پہنچ کر آپ براق سے اتر گئے اور اسی مقام پر اسے باندھ دیا گیا جہاں پہلے انبیاء اسے باندھا کرتے تھے۔ ہیکل سلیمانی میں داخل ہوئے تو ان سب پیغمبروں کو موجود پایا جو ابتدائے آفرنیش سے اس وقت تک دنیا میں پیدا ہوئے تھے۔
آپ ﷺ کے پہنچے ہی نماز کیلئے صفیں بندھ گئیں۔ سب منتظر تھے کہ امامت کے لئے کون آگے بڑھتا ہے۔ جبرئیل علیہ السلام نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھادیا اور آپ نے سب کو نماز پڑھائی۔
پھر آپ ﷺ کے سامنے تین پیالے پیش کئے گئے ایک میں پانی دوسرے میں دودھ اور تیسرے میں شراب ‘ آپ نے دودھ کا پیالہ اٹھالیا جبرئیل علیہ السلام نے مبارکباد دی کہ آپ فطرت کی راہ پاگئے۔
اسری کا اختتام اور معراج کا آغاز
اس طرح یہاں تک اسری یعنی حرم کعبہ سے لے کر بیت المقدس تک کی تفصیلات ہم تحریر کرچکے ہیں اب یہاں سے معراج النبی ﷺ کاآغاز ہوتا ہے۔
اس طرح ایک سیڑھی آپ کے سامنے پیش کی گئی اور جبرئیل علیہ السلام اس کے ذریعہ سے آپ کو آسمان کی طرف لے چلے۔ عربی زبان میں سیڑھی کو معراج کہتے ہیں۔ اور اسی مناسبت سے یہ سارا واقعہ معراج کے نام سے مشہور ہے۔
مورث اعلیٰ سے ملاقات
پہلے آسمان پر تشریف لے گئے تو اس کا دروازہ بند تھا اور وہاں متعین فرشتوں نے دریافت کیا کہ کس کی آمد ہے ؟ جب جبرئیل علیہ السلام نے اپنا نام بتایا تو پھر دریافت کیا گیا کہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ جواب دیا گیا کہ میرے ساتھ محمد ﷺ ہیں۔ پھر سوال کیا گیا کہ کیا ان کو بلایا گیا ہے ؟ جواب دیا گیا کہ ہاں پھر اس کے بعد پہلے آسمان کا دروازہ کھلا۔ اور آپ کا عالیشان طریقہ سے استقبال و خیر مقدم کیا گیا ‘ پھر اس کے بعد بڑی بڑی شخصیتوں ‘ انسانی ارواح اور فرشتوں سے آپ کا تعارف ہواجو اس وقت وہاں موجود تھیں ان میں انسان اول حضرت آدم علیہ السلام جن میں جسم کی بناوٹ و ساخت اور چہرے وغیرہ میں کسی طرح کا کوئی نقص ظاہر نہ ہوتا تھا شامل تھے۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ کو بتایا کہ یہ آدم علیہ السلام ہیں آپ کے مورث اعلی۔
حضرت آدم علیہ السلام اور خوشی و غم
حضرت آدم علیہ السلام کے سیدھے جانب اور دائیں طرف بہت سے لوگ تھے۔ جب آدم علیہ السلام سیدھے جانب نظر ڈالتے تو خوش ہوجاتے اور جب آپ کی نظر بائیں طرف پڑتی تو غمگین ہوجاتے اور روتے۔ نبی ﷺ نے دریافت کیا کہ یہ کیا بات ہے؟ آپ کو بتایا گیا کہ یہ نسل آدم ہے۔ آپ اپنی اولاد کے نیک لوگوں کو دیکھ کر خوش ہورہے ہیں اور بدکار و نافرمان لوگوں کو دیکھ کر غمگین ہورہے ہیں۔
خدا کی راہ میں جہاد کرنے والے
پھر یہاں سے آپ کو وہاں کی چیزوں کا تفصیلی مشاہدہ کرنے کا موقع عطا کیا جاتا ہے۔ ایک مقام پر آپ یہ دیکھتے ہیں کہ لوگوں کی ایک جماعت لہلہاتی کھیتی کاٹ رہی ہے اور یہ جتنی کاٹی جاتی ہے اتنی ہی اضافہ ہوتی چلی جاتی ہے۔ آپ اس سلسلہ میں بھی دریافت فرمایتے ہیں اس کا جواب آپ کو یہ ملتا ہے کہ یہ خدا کی راہ میں جہاد کرنے والے لوگ ہیں۔
نماز کیلئے نہ اٹھنے والوں کا مشاہدہ
پھر آپ ﷺ نے یہ بھی دیکھا کہ کچھ لو…







