Thursday, June 4, 2026
  • About us
  • Contact
  • Our Team
  • Advertise
  • Careers
  • Privacy Policy
Gadyal Kashmir
  • Home
  • Kashmir
  • Jammu
  • World
  • National
  • Sports
  • Article
  • ePaper
No Result
View All Result
Gadyal Kashmir
Home Opinion Article

آو سادگی سے عید مناییں

طنز و مزاح۔

Gadyal Desk by Gadyal Desk
17/06/2024
A A
آو سادگی سے عید مناییں
FacebookTwitterWhatsappTelegram

Related posts

Curtain of Resilience: How Dogri Theatre Evolved from Village Tradition to National Cultural Force

Curtain of Resilience: How Dogri Theatre Evolved from Village Tradition to National Cultural Force

29/05/2026

Floating Sovereignty: Why the Aircraft Carrier Remains the Anchor of India’s Strategic Deterrence

26/05/2026

آج کل ہر چھوٹے یا بڈے، خورد یا کلان، ترقی یافتہ یا غیر ترقی یافتہ ملک کے ہر شہر، ہر گاوں، ہر مگر، ہر ڈگر، ہر قصبہ، ہر ضلع، ہر علاقہ، ہر محلہ، ہر پوش یا سفید پوش کالونی، ہر بازار، ہر ہر گلی اور ہر چوک میں بنی ہر آسمان سے باتیں کرتے ہویے مینار والی ہر مسجد، میں ہر امام صاحب ، ہر فجر، ہر ظہر، ہر عصر، ہر مغرب، ہر عشا،کی ہر نماز کے ہر دعا کے بعد ہر بزرگ، ہر ماں، ہر بہن، ہر بھایی، ہر شادی شدہ اور ہر خاتون، ہر مرد، ہر جوان، ہر پہلوان ہر ناتوان کو ہر بار، بار بار، لگاتار، ہر شام و ہر سحار، یہی تلقین و تاکید کرتے ہیں کہ بھاییو بہنو کچھ بھی ہوجایے، زمانہ پلٹا کھایے یا نہ کھایے، سورج آگ اگلے یا رم جم پانی برسایے، کاروبار زوال پزیر ہو یا کمال پر ہو، بازاروں میں لوگوں کا جم غفیر ہو یا دن میں ہی آلو بولتے ہویے نظر آتے ہوں، امیر ہو یا سغیر، سرماےدار ہو یا لاچار، بھلے ہی گھر میں جان کے لالے پڈتے ہوں لیکن ہر مسلمان اب کی بار عید نہایت ہی عزت و احترام اور پر وقار طریقے سے ضرور مناییں لیکن نہایت ہی سادگی سے مناییں۔ ٹھیک، بالکل ٹھیک، بجا بالکل بجا، صحیح بالکل صحیح، درست و بالکل درست، شاباش، مرحبا، آفرین۔ چلو ہم سب اس بات پر پوری طرح سے عمل کرنے کی قسم کھاییں۔
بٹ، لیکن، کنتو، پرنتو، عید کیسے سادگی سے مناییں؟.
یہ سوال بار بار، اور لگا تار، شام‌ و سحار میرے کند زہن پر تابڑ توڑ وار کرتا رہا اور مجھے للکار رہا تھا۔ اور یہ کہہ رہا تھا کہ عید کسطرح اور کیسے سادگی سے منایی جاتی ہے۔ پھر کیا ہوا، میں اس سادگی سے عید منانے کی وضاحت کرنے کیلیے پہلے امام صاحب کے پاس جانے کو تیار ہوا لیکن پھر یہ سوچ کر واپس آیا کہ کہیں اگر کہنے یا سننے میں زرا سی چوک ہویی بس حکم کفر تو ڈیو ہے۔ اس لیے امام صاحب کا خیال چھوڈ کر میں سیدھا، بجلی، پانی صاف صفآیی کے بغیر سمال میرا مطلب ہے سمارٹ سٹی کے سرکاری پیر صاحب کے دولت خانے پر گیا کیونکہ پیر صاحب نے بھی لوگوں کو عید سادگی سے منانے کی زبردست اپیل کی تھی۔ میں جب وہاں پہونچ گیا تو بغیر کسی سوچ و بچار یا وچار کے انکے دیوان خانے کے اندر ترنت ہی سرٹکا مگر وہاں پیر صاحب کی سادگی کو دیکھکر مجھے لگا ایک زوردار مگر دھیرے سے جھٹکا، پیر صاب کی بے شمار ضیافتوں کو دیکھ کر میرا ماتھا ٹھنکا بھی اور بھٹکا بھی۔ منہہ میں پانی کا ایک خوشگوار آبشار گرجنے لگا مگر افسوس صد افسوس یہاں بھی قسمت کی دیوی نے اپنا منہہ پیر صاحب کی ہی طرف کیا تھا۔ پیر صاحب لنچ کے آخری مراحل طے کرچکے تھے اب تو بس ایک زوردار ڈھکار لینا باقی رہ گیا تھا جو انہوں نے مجھے دیکھکر جلدی سے مار لی تاکہ میں یہ نہ سمجھوں کہ میں بھی پیر صاب کے طعام شریف میں شرکت کا حقدار ہوں۔
بحر حال، میں نے اپنی تشریف آوری کا مقصد بیان کیا مگر پیر صاحب تو اشاروں کنایوں میں پہلے فیس یعنی ہدیہ ادا کرنے کا عندلیہ دیتے رہے جو کہ ان کیلیے ضروری مگر میرے لیے غیر ضروری ٹیکس ‌ادا کرنے کے مترادف تھا۔ مگر مرتا‌ کیا نہ کرتا مجبور ہوکر میں نے یہ ٹیکس ادا کیا اور پیر صاحب کے جواب کا منتظر رہا۔
پیر صاحب نے اپنی کنزتل بحران کتاب کا ایک خاص صفحہ کھولا اور میری طرف معنی خیز نظروں سے دیکھنے لگے۔ عرفہ کا دن‌تھا لوگ عید کے سلسلے میں خریداری کرنے میں مست تھے۔ اتنے میں پیر صاحب کا نوکر شریف آگیا۔ پسینے میں شرابور بیچارہ اور آتے ہی سارآ سامان انکے قدم شریف کے پاس رکھا اور بڈبڈانے لگا، پیر صاحب یہ لیجیے سات کلو گوشت، یہ ایک کلو پنیر، یہ تین عدد چکن، یہ تین کلو دہی، یہ پالک، یہ ٹماٹر، یہ میتھی، یہ برفی، یہ سیویاں، یہ دال والے لفافے،یہ خشک میوہ، یہ میوہ، یہ دال مونگری یہ مٹھایی، یہ آیس کریم، یہ سلاد کیلیے سامان، اور ہاں اپنے ننھے منے کو کھیلنے کیلیے آتش بازی سے بھرا بیگ۔ میں نے پیر صاحب کی طرح دیکھا تو انہوں نے کہا اسے کہتے ہیں سادگی سے عید منانا۔‌ میں نے ہدیہ کے پیسے واپس کرنے کو جب کہا تو پیر صاحب بپھر گیے انکے کان تک لال ہوگیے اور بس اتنا کہا کہ یاد رکھو میاں پیر صاحب لیلو پیسہ بسملا واپس کیجیے نعوز بلا۔‌

Previous Post

First and unique type of case in the world for female inguinal hernia having three indirect sacs operated at Medicare hospital, Srinagar

Next Post

Advisor Bhatnagar extends Eid-ul-Adha greetings

Gadyal Desk

Gadyal Desk

Related Posts

Curtain of Resilience: How Dogri Theatre Evolved from Village Tradition to National Cultural Force
Article

Curtain of Resilience: How Dogri Theatre Evolved from Village Tradition to National Cultural Force

by Daily Gadyal
29/05/2026
0

By Rahul Singh   (The writer is a Scholarship and Fellowship Holder from Ministry of Culture, Government of India in...

Read more

Floating Sovereignty: Why the Aircraft Carrier Remains the Anchor of India’s Strategic Deterrence

26/05/2026

Court Lifts Ban on Jamaat-e-Islami in Bangladesh, Opening Floodgates for Organised Minority Persecution

25/05/2026

Bangladesh Minorities Under Siege: Rights Groups Allege Systematic Campaign of Fear and Displacement

21/05/2026
اٹلی اوربھارت: ہند – بحیرہ روم کے لیے ایک کلیدی شراکت داری

اٹلی اوربھارت: ہند – بحیرہ روم کے لیے ایک کلیدی شراکت داری

19/05/2026
Next Post
آو سادگی سے عید مناییں

Advisor Bhatnagar extends Eid-ul-Adha greetings

  • About us
  • Contact
  • Our Team
  • Advertise
  • Careers
  • Privacy Policy
e-mail: [email protected]

© 2022 Gadyal - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Kashmir
  • Jammu
  • World
  • National
  • Sports
  • Article
  • ePaper

© 2022 Gadyal - Designed and Developed by GITS.