Tuesday, June 23, 2026
  • About us
  • Contact
  • Our Team
  • Advertise
  • Careers
  • Privacy Policy
Gadyal Kashmir
  • Home
  • Kashmir
  • Jammu
  • World
  • National
  • Sports
  • Article
  • ePaper
No Result
View All Result
Gadyal Kashmir
Home Opinion Article

وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت کا مقدر بدل دیا ہے

Gadyal Desk by Gadyal Desk
09/06/2022
A A
FacebookTwitterWhatsappTelegram

از : انوراگ سنگھ ٹھاکر

سیاست میں سات دن  ایک طویل وقت ہو سکتا ہے، تاہم آٹھ برسوں کی مدت کسی ملک کی تاریخ میں ایک بہت مختصر مدت ہوتی ہے۔ تاہم اس مختصر سی مدت میں نریندر مودی نے بھارت کی عالمی شبیہ کو بہتر سے بہتر بنایا ہے اور اب ملک بڑے پیمانے پر ترقی کر گیا ہے۔ اس نے اپنی گم گشتہ لائق فخر حیثیت، وقار اور شان و شوکت بطور وشو گورو کے حاصل کر لی ہے۔  اب جب ہم وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والے 9ویں برس میں داخل ہو رہے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ بھارت اندرونِ ملک مزید ترقی حاصل کرے گا بلکہ پوری دنیا میں بھی اس کا مقام بلند ہوگا۔ بھارت کے مقدر کا راستہ مضبوطی کے ساتھ طے پا چکا ہے۔

Related posts

THE BEAST OF KASHMIR: THE JOURNEY OF TUFAYL AHMAD DAR

THE BEAST OF KASHMIR: THE JOURNEY OF TUFAYL AHMAD DAR

23/06/2026

Why Nepal’s Next Big Choice Is Strategic, Not Political

22/06/2026

وزیر اعظم مودی کی بھارت کو اولیت کی پالیسی  نے ۔قومی مفادات کو روایتی ارضیاتی حیثیت سے ہر حال میں ترجیح دی ہے اور اس نے بلاشبہ بیرونِ ملک بھارت کو ترقی سے ہمکنار کیا ہے۔ نرم اور سخت دونوں طرح کے فیصلوں کے ساتھ تکنالوجی کے شعبہ میں بھارت کے مضبوط مظاہرے اور اس کے استعمال کے نتیجہ میں چوتھے صنعتی انقلاب کاراستہ ہموار ہوا ہے اور ہم محض اس کے مشاہدہ کار نہیں ہیں۔ اس نے بھارت کو اولیت کی پالیسی کے ڈھانچے کو مزید تقویت بہم پہنچائی ہے۔ بھارت کے ثقافتی ورثے اور اس کی ثقافت کو فروغ دینے پر وزیر اعظم کی جانب سے دیے جانے والے زور نے بھی اس کے لیے راستہ ہموار کیا ہے۔

سابقہ حکومتوں نے بھارت کے سافٹ پاور کو نمایاں کرکے پیش کرنے کی کوشش کی تھی تاہم وہ کوششیں محدود اثرات کی حامل تھیں۔ سیاحت سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو فروغ دیے بغیر سیاحت کو فروغ دینا، یا بھارت کے مختلف رنگوں کو صرف ایک تاریخی عمارت تک محدود رکھنایا اس سے بھی خراب بات، بھارت کی مقبول عام ثقافت کو اس کے کمتر درجے میں پیش کرنا، ان تمام امور نے سافٹ پاور کے محاذ پر بھارت کی ترقی کا راستہ روک دیا تھا۔ وزیر اعظم مودی نے اس طریقہ کار میں زبردست تبدیلیاں کی ہیں۔ پورے کینوس کو وسعت دیتے ہوئے معاون عناصر کو بھی اس میں جگہ دی ہے۔ مثال کے طور پر اب یوگ پوری دنیا میں ایک جانا پہچانا نام بن گیا ہے۔ اس کا سہرا وزیر اعظم مودی کے سر جاتا ہے جنہو نے 21 جون کی تاریخ کو اقوام متحدہ کے ذریعہ بین الاقوامی یوم یوگ قرار دیے جانے کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اور اس منفرد تہذیبی بھارتی ورثے کو مقبول عام بنانے کے لیے کثیر پہلوئی اقدامات سے اس کو تقویت بہم پہنچا رہے ہیں اور بھارت اس قدیم سرزمین سے پوری دنیا کو یوگ کا تحفہ پیش کر رہا ہے۔

ماضی میں، واسودھیم کٹمب کم، یعنی پوری دنیا ایک کنبہ ہے ، یہ محض ایک نعرے کی حیثیت رکھتا تھا۔ الفاظ کا ایک مجموعہ جس نے اپنی اخلاقی قوت کھو دی تھی۔ یہ کہنا کہ پوری دنیا ایک کنبہ ہے اور بھارت میں اس آفاقی حقیقت کو سچ کرکے دکھانا، یعنی بھارت کی تہذیبی روایات اس سے مملو ہیں، اسے ظاہر کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے یہ بات ثابت کرکے دکھائی ہے کہ بھارت نہ صرف یہ کہ اپنے مقولوں میں یقین رکھتا ہے جو اس کے قدیم رشیوں منیوں کی دانشوری  کا نچوڑ ہیں اور اس کے قدیم صحائف میں شامل ہیں بلکہ ان پر عمل کرکے بھی دکھاتا ہے۔ لہٰذا جب ترقی یافتہ دنیا نے کووِڈ 19 ٹیکے کے معاملے میں دیگر لوگوں کی مدد کرنے کے سلسلے میں عدم دلچسپی کا اظہار کیا، وزیر اعظم مودی ہمسایہ اور دور دراز میں واقع ممالک کی مدد کے لیے آگے آئے۔ ٹیکہ میتری متعدد معنوں میں حال ہی میں بھارت کے لیے ایک عمدہ ترین لمحہ تھا جب بھارت نے دنیا کے سامنے یہ بات نمایاں کرکے پیش کی کہ ہم ایک مختلف ملک ہیں، ہماری ایک منفرد تہذیب ہے  اور ہم اس ترقی یافتہ دنیا میں خود کو شمار نہیں کرتے جو صرف اپنے مطلب کی بات کرتی ہے ، یعنی دوسروں کی پرواہ کیے بغیر صرف اپنے مفادات کو ترجیح دینا ہمارا لائحہ عمل نہیں ہے۔

وزیر اعظم مودی کے لیے ’واسودھیو کٹمب کم ‘ نہ صرف وبائی مرض کے دوران امداد بہم پہنچانے تک محدود ہے۔ بھارت وہ پہلا ملک تھا جو اس وقت سب سے پہلے راحت رساں ملک بن کر آگے بڑھا جب زبردست زلزلے نے نیپال کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا تھا۔ اس خطہ میں واقع دیگر ممالک سے بہت پہلے یعنی ان کے حرکت میں آنے سے قبل بھارت راحت رسانی میں مصروف ہو چکا تھا۔  جب سری لنکا مشکلات کے دور سے گزر رہا ہے، بھارت نے بلا کسی پس و پیش بحران پر قابو حاصل کرنے کے لیے اپنی جانب سے مدد بہم پہنچائی ہے۔ دنیا نے سقوط کابل اور طالبان کے قیام اقتدار کے بعد افغانستان کی جانب سے اپنا رخ پھیر لیا تھا۔ اس تاریخی واقعہ کے وقت سلامتی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بھارت نے افغانستان کے عوام الناس کے لیے خوراک کی شکل میں راحت بہم پہنچانے کا راستہ اپنایا تھا۔ ماضی میں یہ بھارت ہی تھا جس نے افغانوں کو ایک پارلیمنٹ ہاؤس دیا اور افغانستان کا ایک ازحد اہم باندھ بھی تعمیر کیا۔

واسودھیو کٹمب کم کے عظیم الشان اصول پر عمل کرنے کے معاملے میں بھارت کے امور کی فہرست بہت طویل ہے۔ ہم نے پوری دنیا کے سامنے ان اقدار کو زندہ جاوید کرکے دکھایا ہے، ٹھیک اسی طرح سے جس طرح وزیر اعظم کی بصیرت اور ان کی تصوریت بہت وسیع ہے۔ مثال کے طور پر گھریلو ضروریات سے مجبور ہوکر گیہوں کی برآمدات محدود کرنے سے لے کر بھارت نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ وہ ممالک جنہیں گیہوں درکار ہے، انہیں الگ الگ معاملات میں نوعیت کے لحاظ سے گیہوں فراہم کرایا جائے گا۔ اس فیصلے پر زور دیتے ہوئے اس اخلاقی اصول کو پیش نظر رکھا گیا ہے کہ اگر پوری دنیا ایک کنبہ ہے تو خوراک تحفظ صرف بھارت کے لیے مخصوص شرط نہیں ہو سکتی۔ جہاں دیگر عالمی قائدین اقدار اور اصولوں کے معاملے میں محض زبانی جمع خرچ میں یقین رکھتے ہیں۔ وزیر اعظم مودی ان اقدار اور اصولوں کو یقینی بناتے ہیں جو پوری دنیا کے ساتھ بھارت کے روابط کی روح رواں ہیں۔

ڈجیٹل انڈیا کی داستان بھی کافی معروف ہے اور ضرورت ہے کہ اس کا یہاں ذکر کیا جائے۔

اب ہم دنیا بھر میں اسٹارٹ اپس کے معاملے میں تیسرے سب سے بڑی تعداد والے ملک کی حیثیت رکھتے ہیں اور ہمیں فخر ہے کہ ہمار ے یہاں100 یونیکارن ادارے موجود ہیں۔ ہمارے پاس عمدہ ترین یو پی آئی موجود ہے جس نے ڈجیٹل ادائیگیوں کو کسی دیگر ملک کے مقابلے میں یہاں کہیں زیادہ مقبولیت عطا کی ہے۔ دنیا کی وسیع ترین کووِڈ۔19 ٹیکہ کاری مہم بحسن و خوبی چلائی گئی اور ڈجیٹل طور سے اس کی نگرانی بھی کی گئی۔ ڈجیٹل شمولیت وزیر اعظم مودی کی ڈجیٹل انڈیا پالیسی کا لازمی عنصر رہی ہے۔ دیگر لوگوں کے برخلاف ہم اپنی تکنالوجی کو دوسروں  کے ساتھ ساجھا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ موسمیات کے معاملے میں بھارت نے قابل احیاء توانائی کے راستے پر اپنی قیادت کا ثبوت دیا ہے۔ خاص طورپر شمسی توانائی، لچکدار ترقی اور سبز سرمایہ کاری کے معاملے میں مثالیں پیش کی ہیں اور یہ دلچسپی نہ رکھنے والے ممالک کے لیے منارہ ٔ نور کی حیثیت رکھتا ہے۔

جس جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے اور بھارتی افراد میں جو اعتماد جاگزیں ہیں کہ وہ کر سکتے ہیں، یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ وزیر اعظم مودی بذاتِ خود اس میں یقین رکھتے ہیں کہ ایسا کیا جا سکتا ہے۔ سبھی اس جذبے سے سرشار ہیں۔ ہمارے کھلاڑی ینگ انڈیا کی بہترین مثالیں ہیں اور انہوں نے مودی کے ہم کر سکتے ہیں اصول سے ترغیب حاصل کی ہے اور ایسا کرکے وہ ہر میدان میں عمدگی حاصل کرر ہے ہیں  اور بھارت میں وہ ٹرافیاں لا رہے ہیں جن کے بارے میں اس سے قبل ہم محض خواب دیکھا کرتے تھے۔ بالی ووڈ اب صرف مقبول عام ثقافت یا ایک مخصوص طرز تک محدود نہیں ہے۔ ہماری وسیع تر خوبیوں کی حامل فلمی صنعت آگے بڑھ کر خلاقیت کو شامل کر رہی ہے۔ ثقافت اور تکنالوجی کا استعمال کر رہی  ہے تاکہ عالمی معیار کی حامل مواد کی پیشکش ممکن ہو سکے جو عالمی پیمانے پر بہترین مسابقت کی ضامن ہو۔ تفریحی میڈیا اور تکنالوجی باہم ضم ہوکر بھارت کو مواد کے لحاظ سے برصغیر کی حیثیت دلا چکے ہیں۔ اب بھارت پوری دنیا میں مواد فراہم کرنے والے آئیڈیل پلیٹ فارم جیسے ملک کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔ بھارت مواد کے معاملے میں سب سے بڑا صارف اور سب سے بڑا پروڈیوسر بن کر ابھرا ہے۔ اس کا اعتراف حال ہی میں کیا گیا ہے۔ یعنی بھارت کو کینس میں اس سال ’کنٹری آف آنر ‘ (معزز ملک)کے خطاب سے نوازا گیا ہے۔

بھارت کی وسعت اپنے یہاں مسلم ہے اور دنیا پر ابھی جو بات اس عظیم ملک کے بارے میں منکشف نہیں ہوئی ہے، وہ یہ ہے کہ وزیر اعظم مودی جیسی شخصیت یہاں موجود ہے اور یہ شخصیت عالمی قائدین میں شمار ہوتی ہے۔ دو تحفے ایک جیسے نہیں ہوتے۔ نہ ہی ایک مقام سے دو تحائف حاصل ہو سکتے ہیں۔ ہر ایک تحفہ اپنی ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ ہر تحفہ بھارت کے سافٹ پاور کی منفرد مثال ہے۔ ہر ایک تحفہ بھارت  کی حصولیابیوں کا مظہر ہے کیونکہ یہ ملک کی تہذیبی اساس اور حصولیابیوں سے مملو ہے۔ آج بھارت مریخ اور چاند پر اپنے مشن روانہ کر سکتا ہے۔ بھارت سوپر سونک طیارہ بردار  بنا سکتا ہے۔ بھارت عمدہ ترین خلاقانہ اذہان بہم پہنچا سکتا ہے ۔ بھارت بڑی تیزی سے بنیادی ڈھانچے میں واقع فاصلے کو کم کر سکتا ہے۔ بھارت دیگر ممالک کے مقابلے میں وبائی مرض سے نمٹنے کا بہترین انتظام کر سکتا ہے اور اپنی معیشت کو کسی دیگر ملک کے مقابلے میں بہتر طریقہ سے ازسر نو پٹری پر لا سکتا ہے۔ بھارت بڑے مؤثر طریقہ سے ناداری اور عدم مساوات کو کم کر سکتا ہے اور بھارت خود کو دنیا کی وسیع ترین جمہوریت کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔

اب جب بھارت اپنی آزادی کی 75ویں سالگرہ منا رہا ہے، یہ بات تسلیم کی جانی چاہئے کہ ان آٹھ برسوں میں وزیر اعظم مودی نے آئندہ دہائیوں میں بھارت کی بلاروک ٹوک ترقی کی بنیاد رکھ دی ہے۔ بھارت اندرونِ ملک خوشحال ہوتا جائے گا اور بھارت کا قد ممالک کی صف میں بلند تر ہوتا جائے گا۔ جب قدیم ترین تہذیب آج کی دنیا میں اپنا جائز مقام حاصل کرے گی، بھارت کو وشو گورو کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔ یہ ایک ایسا پراعتماد اور خود کفیل ملک ہوگا جو دوسروں کی قیادت کرے گا اور انہیں ترغیب فراہم کرے گا۔ وزیر اعظم مودی نے صحیح معنوں میں بھارت کا مقدر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس پر چلتے ہوئے بھارت اب پیچھے مڑکر نہیں دیکھے گا۔

(مصنف اطلاعات  و نشریات ، کھیل کود اور نوجوانوں کے امور کے وزیر ہیں۔)

 

 

 

Previous Post

BRIDGE CONSTRUCTED BY KUPWARA’S CITIZEN SOLDIERS AT DARDSUN WARSUN KUPWARA

Next Post

Epaper 10/06/2022

Gadyal Desk

Gadyal Desk

Related Posts

THE BEAST OF KASHMIR: THE JOURNEY OF TUFAYL AHMAD DAR
Article

THE BEAST OF KASHMIR: THE JOURNEY OF TUFAYL AHMAD DAR

by Gadyal Desk
23/06/2026
0

  In a world where success is often measured by fame and recognition, Tufayl Ahmad Dar chose a different path—one...

Read more

Why Nepal’s Next Big Choice Is Strategic, Not Political

22/06/2026

General Who Turned 50,000 Drones Into a Doctrine

22/06/2026
How Gen Upendra Dwivedi Built India’s Drone Army

How Gen Upendra Dwivedi Built India’s Drone Army

22/06/2026
یوگا: بنی نوع انسان کے لیے ایک انمول تحفہ

Yoga: India’s Timeless Gift to A Healthier and More Balanced World

19/06/2026
Next Post
Epaper 10/06/2022

Epaper 10/06/2022

  • About us
  • Contact
  • Our Team
  • Advertise
  • Careers
  • Privacy Policy
e-mail: [email protected]

© 2022 Gadyal - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Kashmir
  • Jammu
  • World
  • National
  • Sports
  • Article
  • ePaper

© 2022 Gadyal - Designed and Developed by GITS.