• Tue. Jan 18th, 2022

ریاستی درجے کی بحالی تک ہم جد وجہد جاری رکھیں گے: غلام نبی آزاد

Byadmin

Nov 27, 2021

سری نگر،27  نومبر  سینئر کانگریس لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر ایک ایسی ریاست ہے جس کو دنیا بھر میں جانا جاتا ہے لیکن ایسی پرانی ریاست کو سال2019  میں دو حصوں میں منقسم کیا گیا جو دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال نہیں ہوگا تب تک ہم بر سر جد و جہد رہیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ آج جموں و کشمیر میں زمانہ قدیم جیسی صورتحال ہے لوگوں کے چہروں پر غم کے آثار نمایاں ہیں اور ہر طرف مایوسی ہی مایوسی ہے۔موصوف سابق وزیر اعلیٰ نے ان باتوں کا اظہار ہفتے کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں پارٹی کارکنوں کے ایک جلسے سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا: ’پانچ اگست 2019 کو جموں و کشمیر پر بجلی گری جب ایسے فیصلے کئے گئے جن کے بارے میں جموں و کشمیر اور لداخ کے لوگوں ہی نہیں بلکہ ملک کے لوگوں نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا اور ملک کی ایک پرانی ریاست کو دو حصوں میں منقسم کیا گیا‘۔ان کا کہنا تھا: ’جموں و کشمیر وہ ریاست ہے جس کو دنیا بھر میں جانا جاتا ہے اور جس پر اقوام متحدہ میں گذشتہ 70  برسوں کے دوران بحثیں ہوئیں اور دنیا کے مختلف ممالک میں اس پر بات ہوئی‘۔مسٹر آزاد نے کہا کہ جب سال 1947 میں ملک کا بٹوارہ ہوا اس وقت جموں و کشمیر کی عمر 101 برس تھی۔ان کا کہنا تھا: ’جب سال1947  میں ملک کا بٹوارا ہوا تو اس وقت جموں وکشمیر کی عمر 101 برس تھی اس وقت 563 ریاستیں تھیں  جن کو ملا کر 12 صوبے بنا دئے گئے لیکن جموں وکشمیر کو اس وقت بھی کسی صوبے کے ساتھ ملانے کی ضرورت نہیں پڑی‘۔ان کا کہنا تھا: لیکن آج جب جموں و کشمیر کی عمر پونے دو سو برس تھی اس کو دو حصوں میں منقسم کیا گیا جو دنیا کی تاریخ میں شاید پہلی بار ہوا ہے کہ ایک ریاست کو یونین ٹریٹری میں تبدیل کر دیا گیا‘۔موصوف کانگریس لیڈر نے کہا کہ جموں و کشمیر کو دو وفاقی حصوں میں تبدیل کرکے ایسا ہی کیا گیا جیسے کسی ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو تھانہ دار بنایا جائے یا کسی وزیر اعلیٰ کو رکن اسمبلی اور چیف سیکریٹری کو پٹواری کے عہدے پر براجمان کیا جائے۔انہوں نے کہا  یہ ایک ایسا کام ہے جس کو کوئی عقل مند آدمی نہیں کر سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر پر افغانوں اور سکھوں کے دور حکومت میں بھی ظلم ہوا ہے۔تاہم انہوں نے جموں وکشمیر کی سکھ برادری سے وابستہ لوگوں کی تعریفیں کیں۔مسٹر آزاد نے کہا کہ آج کے دور میں جموں و کشمیر میں لوگوں کے چہروں پر غم ہے اور ہر سو مایوسی ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جس کی وجہ سے وہ بات نہیں کر پا رہے ہیں اور خوش نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ریاستی درجے اور اسمبلی کی بحالی کے لئے اپنی جد وجہد جا ری رکھیں گے۔یو این آئی

Leave a Reply