قارئین ،کشمیر کی وادی اپنی دلکش فطری خوبصورتی، برف پوش پہاڑوں، سرسبز میدانوں، جھیلوں، چشموں، صدیوں پرانی تہذیب اور مہمان نوازی کے باعث ہمیشہ سے سیاحوں کے لیے کشش کا مرکز رہی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران جموں و کشمیر میں سیاحت کے شعبے نے ایک مرتبہ پھر نمایاں رفتار پکڑی ہے۔ ملک کے مختلف حصوں سے بڑی تعداد میں سیاح وادی کا رخ کر رہے ہیں، جس سے نہ صرف سیاحتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے بلکہ مقامی معیشت میں بھی ایک نئی جان پیدا ہوئی ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کشمیر میں معمول کی زندگی اور امن و امان کے ماحول پر لوگوں کا اعتماد مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔سیاحت کے فروغ میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ سڑکوں کی حالت میں بہتری، بہتر سفری سہولیات، فضائی رابطوں میں اضافہ اور سیاحتی مقامات پر بنیادی سہولیات کی دستیابی نے کشمیر کا سفر پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے۔ سرینگر، گلمرگ، پہلگام اور سونمرگ جیسے معروف سیاحتی مراکز تو پہلے ہی ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں، تاہم اب گریز، بنگس، دودھ پتھری اور دیگر نسبتاً کم معروف مقامات بھی سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہے ہیں۔ اس رجحان کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ سیاحت کا دائرہ چند معروف مقامات تک محدود رہنے کے بجائے دور دراز علاقوں تک پھیل رہا ہے۔سیاحت کی بحالی کے اثرات صرف ہوٹلوں اور سیاحتی مراکز تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس سے معاشرے کے مختلف طبقات کی معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ہوٹل مالکان، ہاؤس بوٹ مالکان، ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد، مقامی گائیڈز، دکاندار، دستکار، قالین باف اور دیگر ہنرمند اس صورتحال سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ مقامی مصنوعات، کشمیری دستکاری، قالین، شالیں، لکڑی کے کام اور دیگر روایتی اشیا کی مانگ بڑھنے سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ یوں سیاحت نہ صرف آمدنی کا ذریعہ بن رہی ہے بلکہ کشمیر کی روایتی دستکاری اور ثقافتی ورثے کے تحفظ میں بھی معاون ثابت ہو رہی ہے۔اس پورے عمل میں پُرامن ماحول کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ جب کسی خطے میں امن اور تحفظ کا احساس مضبوط ہوتا ہے تو سیاح بلا خوف و خطر وہاں کا سفر کرتے ہیں اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی فروغ ملتا ہے۔ انتظامیہ، مقامی آبادی اور سکیورٹی اداروں کی مشترکہ کوششوں سے ایسا ماحول قائم کرنے میں مدد ملی ہے جہاں معمولات زندگی کے ساتھ ساتھ معاشی سرگرمیاں بھی آگے بڑھ سکیں۔ سیاحوں کے اعتماد میں اضافہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ کشمیر ایک بار پھر ملک کے اہم سیاحتی مراکز میں اپنی مضبوط جگہ بنا رہا ہے۔سیاحت کا ایک اہم پہلو لوگوں کے درمیان براہ راست رابطے کا فروغ بھی ہے۔ جب ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے لوگ کشمیر میں کچھ وقت گزارتے ہیں تو انہیں یہاں کی ثقافت، روایات، کھانوں، رہن سہن اور طرز زندگی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اسی طرح مقامی لوگوں کو بھی ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے افراد کے ساتھ میل جول کا موقع ملتا ہے۔ یہ باہمی رابطے غلط فہمیوں کو دور کرنے، ایک دوسرے کو سمجھنے اور قومی یکجہتی کے جذبے کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔کشمیر میں سیاحت کی موجودہ بحالی کو صرف سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تناظر میں دیکھنا کافی نہیں۔ دراصل یہ اعتماد، معمول کی زندگی اور معاشی مواقع کی واپسی کی ایک مثبت علامت ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ امن و امان کے ماحول کو برقرار رکھتے ہوئے سیاحتی بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنایا جائے، نئے مقامات کو ذمہ دارانہ انداز میں ترقی دی جائے اور مقامی آبادی کو سیاحت سے پیدا ہونے والے مواقع میں بھرپور شراکت دار بنایا جائے۔ پائیدار سیاحت، ماحول کے تحفظ اور مقامی ثقافت کے احترام کو ترجیح دے کر جموں و کشمیر سیاحت کو اپنی معاشی ترقی کا ایک مضبوط اور دیرپا ستون بنا سکتا ہے۔