Friday, June 5, 2026
  • About us
  • Contact
  • Our Team
  • Advertise
  • Careers
  • Privacy Policy
Gadyal Kashmir
  • Home
  • Kashmir
  • Jammu
  • World
  • National
  • Sports
  • Article
  • ePaper
No Result
View All Result
Gadyal Kashmir
Home Opinion Article

وقف ترمیمی ایکٹ :لوگ سمجھ چکے ملی ادارے کے اثاثوں کا احتساب اور جوابدہی ضروری ہے

تحریر:ارشد رسول by تحریر:ارشد رسول
01/05/2025
A A
Waqf Amendment Act Vital for Transparency, Misuse of Waqf Assets in Kashmir Raises Concern
FacebookTwitterWhatsappTelegram

Related posts

Curtain of Resilience: How Dogri Theatre Evolved from Village Tradition to National Cultural Force

Curtain of Resilience: How Dogri Theatre Evolved from Village Tradition to National Cultural Force

29/05/2026

Floating Sovereignty: Why the Aircraft Carrier Remains the Anchor of India’s Strategic Deterrence

26/05/2026

وقف ترمیمی ایکٹ کے خلاف ملک بھر میں جو احتجاج کی لہر دوڑ گئی تھی وہ اچانک ختم ہوگئی کیوں کہ لوگوں کو اس بات کا احساس ہوگیا کہ وقف کے چلانے والوں نے وقف جائیداد کو کس طرح اپنے مفادات کی خاطر استعمال کیا تھا جبکہ مستحقین کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ملا۔ وقف بورڈ کا قیام اس لئے لایا گیا تھا تاکہ عام لوگوں کو فائدہ پہنچنانے کے ساتھ ساتھ بورڈ اس ملی جائیداد کی حفاظت بھی کرے اور اس کے اثاثوں کو بڑھانے کے علاوہ فلاحی اداروں کا قیام عمل میں لائے جیسے سکول، کالج، تعلیمی ادارے ، ہسپتال اور دیگر طرز کے فلاحی کام انجام دیئے جاسکیں۔ البتہ ایسا نہیں ہوا بلکہ اس کو سیاست کے بازی گروںنے اپنے مفادات کی خاطر استعمال کیا۔ بورڈ کی ذمہ داری تھی کہ وہ ایسے بچوں کےلئے سکالر شپ فراہم کرتا جو غریب کنبوں سے تعلق رکھتے ہیں اور تعلیم کو جاری رکھنے میں مالی مشکلات کا سامنا کرتے تھے۔ اس کے علاہ غریب مسلم کنبوں کو لڑکیوں کی شادیوں کےلئے ”لون “ کی صورت میں قرضہ جات فراہم کرنا ، اسی ادارے کی ذمہ داری تھی۔ وقف اثاثوں میں اضافہ کرتے ہوئے ہسپتالوں کا قیام عمل میں لایا جاتا جہاں غریب مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا لیکن ایسا بھی نہیں ہوا۔ قارئین جیسے کہ جانتے ہیں کہ ملک بھر میں مختلف مذاہب کی جانب سے ادارے چلائے جاتے ہیں ہم یہاں پر کئی ایک کی مثالیں پیش کرسکتے ہیں جن میں ”سکھ طبقہ کی جانب سے چلائی جانے والے ادارے خالصہ “اور شری ماتا وشنو دیوی ٹرسٹ کی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ قارئین کو معلوم ہوگا کہ شیر ماتا ویشنو دیوی ٹرسٹ کی جانب سے کٹرا میں ویشنو دیوی یونیورسٹی، کے علاوہ دیگر اہم ادارے چلائے جاتے ہیں جبکہ ٹرسٹ کی جانب سے ایک ہسپتال بھی چلایا جارہا ہے۔ا سی طرح خالصہ پنتھ ٹرسٹ کی جانب سے مختلف فلاحی کام کیئے جارہے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ملک میں جہاں لاکھوں ”بھکاری “روزانہ بھیک مانگ کر اپنا پیٹ پالنے پر مجبور کرتے ہیں البتہ کوئی بھی سکھ بھیک نہیں مانگا کیوں کہ خالصہ پنتھ ٹرسٹ کی جانب سے اس طرح کے غریب سیکھ کنبوں کو مالی امداد کی جاتی ہے تاکہ ان کی زندگی آرام سے کٹ جائے۔ اس کے علاوہ سکھ بلا تفرق مذہب کسی بھی شہری کے علاج کےلئے کام کرتے ہیں جبکہ سکھوں کی جانب سے چلائے جانے والے فلاحی اداروں کی جانب سے کئی جگہوں پر ہسپتال بھی بنائے جاچکے ہیں جن میں مریضوں کا مفت علاج کیاجاتا ہے اسی طرح لوگوں کو روزانہ مفت کھانا بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ غرض صرف مسلم وقف بورڈ ہی ایسا ادارہ ہے جس کی جانب سے کئی بھی فلاحی کام انجام نہیں دیا جاتا ہے ناہی کسی کو قرضہ فراہم کیا جاتا ہے اور ناہی کسی کا علاج کیا کرایا جاتا ہے اور ناہی طلبہ کےلئے کوئی سکالر شپ سکیم جاری کی جاچکی ہے۔ کیوں کہ سیاست دانوں نے اس ملی ادارے کو صرف اپنے ہی مفاد کےلئے استعمال کیا ہے۔ جہاں تک وادی کشمیر کی بات ہے تو وادی کشمیر میں بھی اس وقف ترمیمی بل کے خلاف مذہبی جماعتوں کی جانب سے برہمی کااظہار کیا گیا تھا تاہم یہاں پر بھی لوگ خاموش رہے کیوں کہ وادی کشمیر میں بھی وقف بورڈ کو چلانے والوں نے کبھی کسی کا بھلا نہیں کیا ہے صرف اس کے منتظمین ، ملازمین اور سیاست دانوں نے اس ملی ادارے کو اپنے مفاد کےلئے استعمال کیا ہے یہی وجہ ہے کہ اس ایکٹ کے خلاف لوگوں نے خاموشی اختیار کی ہے کیوں کہ ان کی سمجھ میں یہ بات آچکی ہے کہ
اس ملی ادارے کے چلانے والوں کی جوابدہی ضروری ہے اور اس جائیداد کو اسی مقصد کےلئے استعمال میں لایا جانا ضروری ہے جس کےلئے یہ لوگوں کی جانب سے وقف کی جاتی ہے اور اس کےلئے وقف ترمیمی ایکٹ ہی ایک ایسا قانون لائے گا جس میں جوابدہی اور احتساب ہوگا۔

Previous Post

‘No One Will Be Spared’: Amit Shah on Pahalgam Terror Attack

Next Post

One-Month Internship Programme for Central University Students Concludes at DIPR J&K

تحریر:ارشد رسول

تحریر:ارشد رسول

Related Posts

Curtain of Resilience: How Dogri Theatre Evolved from Village Tradition to National Cultural Force
Article

Curtain of Resilience: How Dogri Theatre Evolved from Village Tradition to National Cultural Force

by تحریر:ارشد رسول
29/05/2026
0

By Rahul Singh   (The writer is a Scholarship and Fellowship Holder from Ministry of Culture, Government of India in...

Read more

Floating Sovereignty: Why the Aircraft Carrier Remains the Anchor of India’s Strategic Deterrence

26/05/2026

Court Lifts Ban on Jamaat-e-Islami in Bangladesh, Opening Floodgates for Organised Minority Persecution

25/05/2026

Bangladesh Minorities Under Siege: Rights Groups Allege Systematic Campaign of Fear and Displacement

21/05/2026
اٹلی اوربھارت: ہند – بحیرہ روم کے لیے ایک کلیدی شراکت داری

اٹلی اوربھارت: ہند – بحیرہ روم کے لیے ایک کلیدی شراکت داری

19/05/2026
Next Post

One-Month Internship Programme for Central University Students Concludes at DIPR J&K

  • About us
  • Contact
  • Our Team
  • Advertise
  • Careers
  • Privacy Policy
e-mail: [email protected]

© 2022 Gadyal - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Kashmir
  • Jammu
  • World
  • National
  • Sports
  • Article
  • ePaper

© 2022 Gadyal - Designed and Developed by GITS.