قارئین ، یومِ آزادی کا جشن محض ایک قومی تہوار نہیں بلکہ اپنے ماضی کو یاد کرنے اور مستقبل کے لیے نئے عزم کے اظہار کا موقع بھی ہوتا ہے۔ اس بار وادی کشمیر میں 15 اگست کی تقریبات نے بھی اسی جذبے کی مختلف جھلکیاں پیش کیں۔ سرینگر کے مرکزی علاقوں سے لے کر دور دراز دیہات اور سرحدی بستیوں تک قومی پرچموں کی موجودگی، تعلیمی اداروں میں منعقدہ پروگرام، کھیلوں کی سرگرمیاں اور عوامی شرکت نے جشن کے ماحول کو نمایاں بنایا۔ مختلف مقامات پر ہونے والی تقریبات سے یہ احساس بھی اجاگر ہوا کہ کشمیر کے عام لوگ امن، استحکام، تعلیم اور ترقی کے ایسے مستقبل کے خواہاں ہیں جہاں نئی نسل اپنے خوابوں کو عملی شکل دے سکے۔اس پورے منظرنامے میں بچوں اور نوجوانوں کی شرکت خاص طور پر قابل توجہ رہی۔ اسکولوں میں پرچم کشائی کے علاوہ تقریری مقابلوں، مضمون نویسی، ثقافتی پروگراموں، کھیلوں اور دیگر سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا۔ آرمی گڈوِل اسکولوں سمیت وادی کے مختلف تعلیمی اداروں میں طلبہ نے جوش و خروش کے ساتھ ان پروگراموں میں حصہ لیا۔ بچوں کے لیے اس طرح کی تقریبات قومی تاریخ سے واقفیت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے اندر ذمہ داری، نظم و ضبط اور اجتماعی شعور پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بنتی ہیں۔قارئین ، آج کشمیر کی نئی نسل کو صرف ماضی کے حالات کے حوالے سے دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ نوجوانوں کی ترجیحات میں نمایاں تبدیلی آرہی ہے۔ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں آگے بڑھنے کے خواہاں ہیں، کھیلوں میں اپنی صلاحیتیں منوانا چاہتے ہیں اور ٹیکنالوجی و کاروبار کے نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یومِ آزادی کے موقع پر نوجوانوں کی سرگرمیوں میں محض رسمی شرکت کے بجائے مستقبل کے حوالے سے ان کے عزائم بھی دکھائی دیتے ہیں۔سرینگر سمیت وادی کے مختلف شہروں اور قصبوں میں سرکاری اداروں، بلدیاتی اداروں، تعلیمی مراکز اور دیگر تنظیموں نے بھی یومِ آزادی کی تقریبات کا اہتمام کیا۔ بازاروں، چوراہوں اور عوامی مقامات پر قومی پرچموں نے جشن کی فضا کو مزید نمایاں کیا۔ دیہی علاقوں میں مقامی لوگوں کی شرکت نے ان تقریبات کو ایک الگ رنگ دیا، جہاں شہریوں نے اپنے اپنے انداز میں قومی دن کی خوشیوں میں حصہ لیا۔ لال چوک میں بھی ترنگے کی موجودگی نے شہر کے مرکزی حصے کو قومی جذبے کے نمایاں مرکز میں تبدیل کردیا۔یہ منظر اس لیے بھی اہم ہے کہ کشمیر نے ایک طویل عرصے تک مشکل حالات دیکھے ہیں۔ ایسے میں امن اور معمول کی زندگی کی خواہش کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ عام شہری اپنے بچوں کے لیے بہتر تعلیم، روزگار، محفوظ ماحول اور ترقی کے مواقع چاہتے ہیں۔ قومی تہوار ان اجتماعی خواہشات کے اظہار کا ایک موقع فراہم کرتے ہیں۔ آزادی کا جشن اس اعتبار سے صرف ماضی کی یاد نہیں رہتا بلکہ یہ سوال بھی سامنے لاتا ہے کہ آنے والی نسلوں کے لیے آزادی کے ثمرات کو کس طرح مزید وسیع کیا جائے۔یومِ آزادی کی تقریبات میں کھیلوں اور ثقافتی سرگرمیوں کا بڑھتا ہوا کردار بھی خوش آئند ہے۔ مختلف میدانوں میں مقابلوں کا انعقاد نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں سے جوڑتا ہے، جبکہ ثقافتی پروگرام کشمیر کے منفرد تہذیبی ورثے کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ کشمیری زبان، موسیقی، دستکاری، روایتی فنون، کھانے اور ثقافتی روایات ہندوستان کی وسیع تہذیبی تصویر میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ اس لیے قومی یکجہتی کا مفہوم کشمیر کی اپنی ثقافتی شناخت اور روایات کے احترام کے ساتھ مزید خوبصورت بن سکتا ہے۔قارئین ، ترنگا بھی اسی وسیع تر احساس کی ایک علامت ہے۔ اسکولوں، سرکاری اداروں، بازاروں اور عوامی مقامات پر قومی پرچم کی موجودگی حب الوطنی کے اظہار کے ساتھ ساتھ اس مشترکہ قومی سفر کی یاد دہانی بھی ہے جس میں مختلف زبانوں، ثقافتوں اور روایات کے حامل لوگ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ کشمیر کی منفرد شناخت ہندوستان کے کثیر رنگ ثقافتی ورثے کا ایک اہم حصہ ہے اور یومِ آزادی اس تنوع کو اجاگر کرنے کا بھی موقع فراہم کرتا ہے۔نوجوانوں کے مستقبل کی تعمیر میں اداروں کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ تعلیمی ادارے اگر تعلیم کے ساتھ کھیل، ہنر، ثقافت اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دیں، انتظامیہ نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرے اور مقامی سطح پر اجتماعی سرگرمیوں کو تقویت دی جائے تو اس کے نتیجے میں معاشرے میں اعتماد بڑھتا ہے۔ یہی اعتماد ایک ایسی نسل تیار کرتا ہے جو مشکلات سے گھبرانے کے بجائے اپنے مستقبل کی تعمیر پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔آزادی کا مفہوم صرف اس تاریخی جدوجہد تک محدود نہیں جس کے نتیجے میں 1947 میں ہندوستان آزاد ہوا۔ آزادی دراصل ان امکانات کا نام بھی ہے جو ایک قوم کو اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے حاصل ہوتے ہیں۔ کشمیر میں ان امکانات کو تعلیم، کھیل، کاروبار، ٹیکنالوجی، ثقافت اور روزگار کے میدان میں حقیقت کا روپ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر نئی نسل کو آگے بڑھنے کے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے خطے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔اس یومِ آزادی پر وادی میں نظر آنے والی سرگرمیوں کو اسی بدلتی ہوئی سوچ کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بچوں کا قومی پرچم بلند کرنا، نوجوانوں کا کھیلوں میں حصہ لینا، تعلیمی اداروں میں تقریبات کا انعقاد اور مختلف علاقوں میں عوام کا اجتماعی طور پر جشن منانا اس بات کی علامت ہے کہ مستقبل کے حوالے سے امیدیں زندہ ہیں۔ کشمیر کی اصل طاقت اس کے نوجوان ہیں، اور اگر انہیں امن، تعلیم، ہنر اور مواقع میسر آئیں تو یہ نسل ایک ایسے کشمیر کی بنیاد رکھ سکتی ہے جو ترقی، اعتماد، خوشحالی اور قومی دھارے میں بھرپور شمولیت کے ساتھ آگے بڑھے۔
وادی کشمیر میں تعلیم کی نئی روشنی
قارئین ، تعلیم کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ ایک باشعور اور تعلیم یافتہ نسل...
Read more

