Sunday, October 18, 2026
  • About us
  • Contact
  • Our Team
  • Advertise
  • Careers
  • Privacy Policy
Gadyal Kashmir
  • Home
  • Kashmir
  • Jammu
  • World
  • National
  • Sports
  • Article
  • ePaper
No Result
View All Result
Gadyal Kashmir
Home Opinion Article

سرحدی علاقوں کی نئی سڑکیں ترقی کی راہیں

ارشید رسول by ارشید رسول
25/07/2026
A A
FacebookTwitterWhatsappTelegram

Related posts

Handwara Girl’s Cambridge Opportunity Highlights the Global Reach of Kashmir’s Young Talent

13/10/2026

Beyond the Game: How Sports Unite People, Build Character and Bridge Divides

13/10/2026

قارئین،جموں و کشمیر کے سرحدی علاقے گریز اور تلیل طویل عرصے تک ان وادیوں میں شمار ہوتے رہے جہاں قدرتی حسن تو بے مثال تھا، مگر زندگی بے شمار مشکلات سے عبارت تھی۔ برف پوش پہاڑوں میں گھرے یہ علاقے ہر سال موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی دنیا سے تقریباً کٹ جایا کرتے تھے۔ چھ ماہ تک سڑکیں بند رہنا معمول کی بات تھی، جس کے باعث نہ صرف آمدورفت معطل رہتی بلکہ تعلیم، صحت، تجارت اور روزگار سمیت زندگی کے تقریباً تمام شعبے متاثر ہوتے تھے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں میں سرحدی سڑکوں کی تعمیر اور موجودہ شاہراہوں کی جدید کاری نے اس صورتحال کو یکسر تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔ آج انہی راستوں پر ترقی کی نئی کہانی لکھی جا رہی ہے اور یہ تبدیلی مقامی لوگوں کی روزمرہ زندگی میں واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔سرحدی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر بظاہر ایک بنیادی انفراسٹرکچر منصوبہ دکھائی دیتی ہے، لیکن حقیقت میں اس کے اثرات کہیں زیادہ وسیع اور دیرپا ہوتے ہیں۔ بہتر شاہراہیں صرف گاڑیوں کی آمدورفت آسان نہیں بناتیں بلکہ یہ تعلیم، صحت، معیشت، سیاحت اور سماجی ترقی کے دروازے بھی کھول دیتی ہیں۔ گریز اور تلیل اس کی بہترین مثال بن چکے ہیں، جہاں رابطہ بہتر ہونے کے ساتھ ہی زندگی کی رفتار بھی بدلنے لگی ہے۔قارئین کو یاد ہوگا کہ ماضی میں رازدان پاس پر شدید برف باری ہوتے ہی پوری وادی عملاً باقی کشمیر سے منقطع ہو جاتی تھی۔ خاندانوں کو موسم سرما شروع ہونے سے پہلے کئی ماہ کا راشن، ادویات، ایندھن اور دیگر ضروری سامان ذخیرہ کرنا پڑتا تھا کیونکہ یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ اگلی مرتبہ باہر کی دنیا سے رابطہ کب بحال ہوگا۔ کسی مریض کی حالت اچانک بگڑ جائے تو اس کی جان بچانا بھی ایک مشکل مرحلہ بن جاتا تھا، کیونکہ زمینی راستے بند ہونے کی صورت میں صرف ہیلی کاپٹر ہی واحد سہارا رہ جاتا تھا، وہ بھی موسم کی اجازت سے مشروط۔اب صورتحال میں نمایاں تبدیلی آ رہی ہے۔ بارڈر روڈز آرگنائزیشن اور اس کے مختلف منصوبوں کے تحت جدید مشینری کے ذریعے بروقت برف ہٹانے، مضبوط سڑکوں کی تعمیر اور نئے پلوں کی تنصیب سے شاہراہوں کو زیادہ عرصے تک قابلِ استعمال رکھا جا رہا ہے۔ پرانے کمزور پلوں کی جگہ مضبوط فولادی ڈھانچے تعمیر کیے گئے ہیں جو شدید برف باری اور برفانی تودوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ نتیجتاً سرحدی آبادیوں میں یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ اب وہ سال کے کئی مہینوں تک مکمل تنہائی کا شکار نہیں رہیں گے۔ان بہتر شاہراہوں کا سب سے بڑا فائدہ صحت کے شعبے میں محسوس کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں دور دراز دیہات سے مریضوں کو اسپتال پہنچانا ایک کٹھن مرحلہ ہوتا تھا، جبکہ اب ایمبولینسیں نسبتاً کم وقت میں بانڈی پورہ اور سری نگر کے بڑے اسپتالوں تک پہنچ سکتی ہیں۔ طبی سہولیات تک بہتر رسائی نے نہ صرف ہنگامی حالات میں قیمتی جانیں بچانے میں مدد دی ہے بلکہ عام شہریوں میں بھی تحفظ کا احساس پیدا کیا ہے۔تعلیم کے میدان میں بھی یہ رابطہ انقلاب برپا کر رہا ہے۔ پہلے سرحدی علاقوں کے اسکولوں میں اساتذہ کی تعیناتی اور مستقل موجودگی ایک بڑا مسئلہ تھی کیونکہ دشوار گزار سفر انہیں یہاں آنے سے روکتا تھا۔ اب حالات نسبتاً بہتر ہوئے ہیں اور وادی کشمیر کے مختلف حصوں سے اساتذہ آسانی سے ان اسکولوں تک پہنچ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ گریز اور تلیل کے نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مواقع بھی وسیع ہوئے ہیں۔ اب کالجوں اور جامعات میں داخلہ لینے والے طلبہ کو یہ خوف کم لاحق رہتا ہے کہ موسم سرما میں وہ کئی ماہ تک اپنے گھروں سے رابطہ نہیں رکھ سکیں گے۔اگر کسی شعبے میں اس تبدیلی کے سب سے نمایاں معاشی اثرات دیکھے جا سکتے ہیں تو وہ سیاحت ہے۔ ایک زمانہ تھا جب گریز کا سفر صرف چند مہم جو سیاحوں تک محدود تھا، کیونکہ سرحدی حساسیت اور دشوار راستے عام لوگوں کو یہاں آنے سے روکتے تھے۔ لیکن بہتر شاہراہوں نے اس خوبصورت وادی کو ملک بھر کے سیاحوں کے لیے زیادہ قابلِ رسائی بنا دیا ہے۔ دریائے کشن گنگا کے شفاف پانی، حبہ خاتون کی دلکش چوٹی، سرسبز میدان اور تلیل کے روایتی لکڑی کے مکانات اب ہزاروں سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہے ہیں۔سیاحت میں اضافے سے مقامی معیشت کو نئی زندگی ملی ہے۔ بہت سے خاندان اپنے روایتی گھروں کو مہمان خانوں میں تبدیل کر رہے ہیں، جبکہ نوجوان گائیڈ، ڈرائیور، کیفے مالکان اور ٹرانسپورٹ آپریٹرز کے طور پر روزگار حاصل کر رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف مقامی سطح پر آمدنی کے ذرائع بڑھے ہیں بلکہ نوجوانوں کی شہروں کی جانب نقل مکانی میں بھی کمی آئی ہے۔گریز اور تلیل کی زرعی معیشت بھی بہتر سڑکوں سے براہِ راست مستفید ہو رہی ہے۔ یہ علاقے کالا زیرہ، پہاڑی آلو اور مختلف مقامی دالوں جیسی اعلیٰ معیار کی فصلوں کے لیے مشہور ہیں۔ ماضی میں ناقص آمدورفت کے باعث کسانوں کی بڑی مقدار میں پیداوار منڈیوں تک پہنچنے سے پہلے ہی خراب ہو جاتی تھی، لیکن اب چند گھنٹوں میں تازہ زرعی اجناس سری نگر کی منڈیوں تک پہنچائی جا سکتی ہیں۔ اس سہولت نے کسانوں کو تجارتی بنیادوں پر کاشتکاری کی جانب راغب کیا ہے اور وہ اپنی محنت کا بہتر معاوضہ حاصل کرنے لگے ہیں۔ان سڑکوں کا ایک اہم سماجی پہلو بھی ہے۔ جب کسی علاقے کا رابطہ دنیا سے مضبوط ہوتا ہے تو وہاں کی تہذیب، زبان اور ثقافت بھی نئی شناخت حاصل کرتی ہے۔ گریز کے درد شین باشندوں کی منفرد ثقافت، روایات اور زبان اب زیادہ لوگوں تک پہنچ رہی ہے، جس سے مقامی آبادی میں اپنی شناخت پر فخر کا احساس مزید مضبوط ہوا ہے۔گریز اور تلیل کی بدلتی ہوئی تصویر اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ سرحدی علاقوں کی ترقی صرف حفاظتی نقطۂ نظر سے نہیں دیکھی جا سکتی بلکہ وہاں کے عوام کی خوشحالی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ سڑکیں محض پتھر، مٹی اور تارکول کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ یہ امید، اعتماد اور ترقی کا راستہ بھی ہوتی ہیں۔ جب کسی دور افتادہ بستی تک ایک مضبوط شاہراہ پہنچتی ہے تو اس کے ساتھ تعلیم، صحت، تجارت، سیاحت اور بہتر مستقبل کے امکانات بھی وہاں دستک دیتے ہیں۔آج گریز اور تلیل کی وادیوں میں تعمیر ہونے والی شاہراہیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بہتر رابطہ کسی بھی خطے کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ یہ سڑکیں صرف دو مقامات کو نہیں جوڑ رہیں بلکہ سرحدی عوام کے خوابوں کو ترقی، خود اعتمادی اور روشن مستقبل سے بھی ہم آہنگ کر رہی ہیں۔

Previous Post

FDA Launches UT-Wide Crackdown on Milk Quality; 170 Samples Collected Across J&K for Safety Testing

Next Post

Srinagar Police Attaches ₹1.35 Crore Worth Properties of Drug Peddlers Under Nasha Mukt J&K Abhiyan

ارشید رسول

ارشید رسول

Related Posts

Article

Handwara Girl’s Cambridge Opportunity Highlights the Global Reach of Kashmir’s Young Talent

by ارشید رسول
13/10/2026
0

Arshid Rasool   The journey from a classroom in a remote corner of Kashmir to one of the world's most...

Read more

Beyond the Game: How Sports Unite People, Build Character and Bridge Divides

13/10/2026

“PoJK’s Youth at a Crossroads: Degrees, Joblessness and the Search for a Secure Future”

13/10/2026
From Remote Mountainous Regions to London and Legislative Chambers: Remarkable Life of Ghulam Rasool Azad

From Remote Mountainous Regions to London and Legislative Chambers: Remarkable Life of Ghulam Rasool Azad

05/10/2026
Eight Years Is Too Long: J&K’s Genuine Print Newspapers Deserve a Fair Chance

Eight Years Is Too Long: J&K’s Genuine Print Newspapers Deserve a Fair Chance

04/10/2026
Next Post
Srinagar Police Attaches ₹1.35 Crore Worth Properties of Drug Peddlers Under Nasha Mukt J&K Abhiyan

Srinagar Police Attaches ₹1.35 Crore Worth Properties of Drug Peddlers Under Nasha Mukt J&K Abhiyan

  • About us
  • Contact
  • Our Team
  • Advertise
  • Careers
  • Privacy Policy
e-mail: [email protected]

© 2022 Gadyal - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Kashmir
  • Jammu
  • World
  • National
  • Sports
  • Article
  • ePaper

© 2022 Gadyal - Designed and Developed by GITS.