Saturday, June 6, 2026
  • About us
  • Contact
  • Our Team
  • Advertise
  • Careers
  • Privacy Policy
Gadyal Kashmir
  • Home
  • Kashmir
  • Jammu
  • World
  • National
  • Sports
  • Article
  • ePaper
No Result
View All Result
Gadyal Kashmir
Home Jammu Kashmir

فکرفردا تخلیقی سفرکے تین اہم پڑاؤ

Gadyal Desk by Gadyal Desk
05/08/2023
A A
فکرفردا  تخلیقی سفرکے تین اہم پڑاؤ
FacebookTwitterWhatsappTelegram

محمد سلیم سالک

عالم تخیل میں ڈل جھیل کے کنارے ایک استاد اور شاگرد گھاٹ نمبر 14 پر ایک طویل عرصے کے بعد ملاقی ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے بارے میں خیرو عافیت پوچھنے کے بعد دونوں علم وادب کی وادیوں میں دور تک نکلتے ہوئے گویاہوتے ہیں:

Related posts

Man Dies After Coming Under Snow Slide In North Kashmir’s Handwara

Leopard Attack Claims Life of Uttar Pradesh Labourer at Budgam Brick Kiln

05/06/2026
Indian Army Plants Seeds of Sustainability Across North Kashmir on Environment Day

Indian Army Plants Seeds of Sustainability Across North Kashmir on Environment Day

05/06/2026

استاد: کیسا چل رہا ہے تمہارا تخلیقی سفر برخوردار۔

شاگرد:آ پ کی دعاؤں کے طفیل کچھ نہ کچھ لکھتا رہتاہوں۔

استاد: بہت عمدہ،لکھتے رہو……

شاگرد: آپ سے ایک بات پوچھنے تھی اگر اجازت مل جائے۔

استاد: شو ق سے۔

شاگرد: حال میں میری ملاقات کافی ہاوس میں کہنہ مشق شاعر سے ہوئی۔ کہنہ مشق شاعر صاحب نئی نسل کے تعلق سے کچھ کبیدہ خاطر لگے۔ان کاماننا ہے کہ نئی نسل مطالعہ کی طرف زیادہ راغب نہیں ہے بلکہ سستی شہرت کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کرتی ہے اور ساتھ ہی انہوں نے نئی نسل کو عجلت پسند بھی کہا۔

استاد: صحیح تو کہا ہے کہنہ مشق شاعر صاحب نے ……!!

شاگرد: آپ بھی کہنہ مشق صاحب کی طرف داری کرنے لگے۔

استاد: اچھا بتاؤ کیا پوچھنا تھا ……

شاگرد: کیا شاعر بننے کے لئے طویل عمر درکار ہوتی ہے؟

استاد: اس میں دورائے نہیں کہ عمر کے ساتھ ساتھ تجربات میں پختگی آتی ہے۔شاید اسی لئے انہوں نے عمر پر زیادہ زور دیاہوگا۔اگرچہ ایسا ضروری نہیں ہے۔تخلیقی صلاحیت رکھنے والا کم عمری میں بھی اچھے اورعمدہ شعرتخلیق کرسکتا ہے،بشرط یہ کہ اس کے پاس تینوں میموں کا علم ہو۔

شاگرد: براہ کرم یہ بتائیں کہ وہ تین (م) کون سے ہیں۔

استاد: برخوردار صبر کرو۔پہلا (م) مطالعہ ہے۔مطالعہ میں وہ سب کچھ آتاہے جو تم کتابوں میں پڑھتے ہو،اساتذہ سے سنتے ہواور دیگروسائل بروئے کار لاکر علم میں اضافہ کرتے ہو۔اب اگر تم نصابی ضرورت کے مطابق پڑھنے کو مطالعہ کہو گے تو وہ اس کے محدود معنی ہوں گے۔غالب کی چارغزلیں پڑھنے کے بعد تم یہ دعوا کروں گے کہ میں نے غالب کو پڑھا ہے،یہ سب سے بڑی زیادتی ہے۔

شاگرد: (بڑی تجسس کے ساتھ)آپ کا فرمانا بجا ہے۔

استاد: مطالعہ کی کثرت میں برکت ہے۔جب مطالعہ میں مشاہدہ شامل ہوجائے تو کیاکہنے ……

شاگرد: قبلہ تخلیقی سفر میں مشاہدہ کی کیا اہمیت ہے ؟

استاد: یہ ایک دلچسپ سوال ہے،ا س کے کئے جوابات ہوسکتے ہیں۔مشاہدہ کرنے کے بعد جب ادرک اور غوروفکر کر کے احساسات وجذبات تجربات کی بھٹی میں پک کرایک خیال تخلیقی جامہ پہن لے تو سمجھو تخلیقی سفر کا آغاز ہوگیا۔

شاگرد: قبلہ آپ تو شاعری کرنے لگے۔
استاد:جب سامنے ایک اچھا شاعر بیٹھا ہوتوایسا ہونا یقینی ہے۔

(اس بات پر دونوں زور زور سے قہقہ مارتے ہیں )

شاگرد: قبلہ دوسرے (م) کے بارے میں بھی کچھ بتائیں۔

استاد: مشق ہی دوسرا (م) ہے۔ایک تخلیق کار کے لئے مشق بہت ضروری عمل ہے۔مشق کو ہی ریاضت کہا جاتا ہے۔کیا تم نے انتن چیخوف کا وہ قول نہیں سنا ہے کہ ”تب تک لکھتے رہوجب تک تمہارے قلم سے کوئی شاہکار نہ نکل آئے“۔

شاگرد: مشق تو کرتے رہتے ہیں۔

استاد: (مسکراہٹ کے ساتھ) ایک غزل لکھنے کو مشق نہیں کہتے برخوردار۔ ایک تخلیق مکمل کرنے کے بعد اس کو ایک عرصے کے لئے زنبیل میں ڈال دو۔پھر دوبارہ نکال کر نوک پلک سنوارو۔شعرکے محاسن ومعائب پر دھیان دو۔روزمرہ اور محاورہ کی لطافت سمجھو۔آہنگ و بحر کا خیال رکھو۔مقدار سے زیادہ معیار کو اپناؤ۔پھر مشق کی برکتیں دیکھو۔

شاگرد: آپ نے تو ڈراہی دیا۔اتنی سخت محنت کون کرتاہے بھلا آج کے دور میں۔

استاد: اسی لئے کہنہ مشق شاعر صاحب نے نئی نسل کو جلد باز کہا تھا۔

شاگرد: دوسرا (م) کا مرحلہ یقینا سخت مرحلہ ہے۔

استاد: اسی لئے کہا جاتاہے کہ چھپنے کے لئے چھپنا ضروری ہے۔

شاگرد: قبلہ اب تیسرے (م) کے بھی دیدار کروائیں۔

استاد: تیسرا (م) مشورہ ہے۔

شاگرد: جناب مشورہ کس سے کریں۔
استاد: مشورے کی پہلی شرط یہ ہے کہ”لکل فن الرجال“کے اصول مطابق مشورہ اسی شخص سے کریں جو اپنے فن میں ماہر ہو۔ورنہ ”کارنجار بدست گلکار“والا معاملہ ہوگا۔

شاگرد: آپ نے تو میری آنکھیں کھول دیں۔تخلیقی سفر کے یہ تین اہم پڑاؤ نئی نسل کے لئے سنگ میل ثابت ہوں گے۔

استاد : اسی لۓ کہا جاتا ہے شعر وشاعری میں خون جگر صرف ہوتا ہے ۔

شاگرد: (مسکراہٹ کے ساتھ) اسی لئے بہت پہلے علامہ اقبال کہہ گئے:
رنگ ہو یا خشت و سنگ،چنگ ہو یا حرف و صوت
معجزہ ئ فن کی ہے خونِ جگرسے نمود

Previous Post

Tariq Ganai Oversees ongoing cleaning, fumigation activities at Civil Secretariat Srinagar

Next Post

Offering 675 services online is a milestone towards ‘corruption free’ J&K: CS

Gadyal Desk

Gadyal Desk

Related Posts

Man Dies After Coming Under Snow Slide In North Kashmir’s Handwara
Jammu Kashmir

Leopard Attack Claims Life of Uttar Pradesh Labourer at Budgam Brick Kiln

by Gadyal Desk
05/06/2026
0

Beerwah, June 5 (JKNS): A 45-year-old labourer from Uttar Pradesh was killed in a leopard attack in the Beerwah area...

Read more
Indian Army Plants Seeds of Sustainability Across North Kashmir on Environment Day

Indian Army Plants Seeds of Sustainability Across North Kashmir on Environment Day

05/06/2026
Legal Awareness and Environmental Protection Are the Need of the Hour: Speakers at TLSC Beerwah Programme

Legal Awareness and Environmental Protection Are the Need of the Hour: Speakers at TLSC Beerwah Programme

05/06/2026
MY Bharat Leads Massive Green Campaign Across Anantnag, Kulgam on World Environment Day

MY Bharat Leads Massive Green Campaign Across Anantnag, Kulgam on World Environment Day

05/06/2026
JK LCMA Celebrates World Environment Day

JK LCMA Celebrates World Environment Day

05/06/2026
Next Post
Offering 675 services online is a milestone towards ‘corruption free’ J&K: CS

Offering 675 services online is a milestone towards ‘corruption free' J&K: CS

  • About us
  • Contact
  • Our Team
  • Advertise
  • Careers
  • Privacy Policy
e-mail: [email protected]

© 2022 Gadyal - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Kashmir
  • Jammu
  • World
  • National
  • Sports
  • Article
  • ePaper

© 2022 Gadyal - Designed and Developed by GITS.