Tuesday, July 14, 2026
  • About us
  • Contact
  • Our Team
  • Advertise
  • Careers
  • Privacy Policy
Gadyal Kashmir
  • Home
  • Kashmir
  • Jammu
  • World
  • National
  • Sports
  • Article
  • ePaper
No Result
View All Result
Gadyal Kashmir
Home Jammu Kashmir

فکرفردا تخلیقی سفرکے تین اہم پڑاؤ

Gadyal Desk by Gadyal Desk
05/08/2023
A A
فکرفردا  تخلیقی سفرکے تین اہم پڑاؤ
FacebookTwitterWhatsappTelegram

محمد سلیم سالک

عالم تخیل میں ڈل جھیل کے کنارے ایک استاد اور شاگرد گھاٹ نمبر 14 پر ایک طویل عرصے کے بعد ملاقی ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے بارے میں خیرو عافیت پوچھنے کے بعد دونوں علم وادب کی وادیوں میں دور تک نکلتے ہوئے گویاہوتے ہیں:

Related posts

Centre Unveils Major Democratic Reforms for Ladakh, Hill Councils to Be Set Up in All Seven Districts

13/07/2026
Vice President Calls for Bigger NCC, More Sainik Schools Across States

Vice President Calls for Bigger NCC, More Sainik Schools Across States

13/07/2026

استاد: کیسا چل رہا ہے تمہارا تخلیقی سفر برخوردار۔

شاگرد:آ پ کی دعاؤں کے طفیل کچھ نہ کچھ لکھتا رہتاہوں۔

استاد: بہت عمدہ،لکھتے رہو……

شاگرد: آپ سے ایک بات پوچھنے تھی اگر اجازت مل جائے۔

استاد: شو ق سے۔

شاگرد: حال میں میری ملاقات کافی ہاوس میں کہنہ مشق شاعر سے ہوئی۔ کہنہ مشق شاعر صاحب نئی نسل کے تعلق سے کچھ کبیدہ خاطر لگے۔ان کاماننا ہے کہ نئی نسل مطالعہ کی طرف زیادہ راغب نہیں ہے بلکہ سستی شہرت کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کرتی ہے اور ساتھ ہی انہوں نے نئی نسل کو عجلت پسند بھی کہا۔

استاد: صحیح تو کہا ہے کہنہ مشق شاعر صاحب نے ……!!

شاگرد: آپ بھی کہنہ مشق صاحب کی طرف داری کرنے لگے۔

استاد: اچھا بتاؤ کیا پوچھنا تھا ……

شاگرد: کیا شاعر بننے کے لئے طویل عمر درکار ہوتی ہے؟

استاد: اس میں دورائے نہیں کہ عمر کے ساتھ ساتھ تجربات میں پختگی آتی ہے۔شاید اسی لئے انہوں نے عمر پر زیادہ زور دیاہوگا۔اگرچہ ایسا ضروری نہیں ہے۔تخلیقی صلاحیت رکھنے والا کم عمری میں بھی اچھے اورعمدہ شعرتخلیق کرسکتا ہے،بشرط یہ کہ اس کے پاس تینوں میموں کا علم ہو۔

شاگرد: براہ کرم یہ بتائیں کہ وہ تین (م) کون سے ہیں۔

استاد: برخوردار صبر کرو۔پہلا (م) مطالعہ ہے۔مطالعہ میں وہ سب کچھ آتاہے جو تم کتابوں میں پڑھتے ہو،اساتذہ سے سنتے ہواور دیگروسائل بروئے کار لاکر علم میں اضافہ کرتے ہو۔اب اگر تم نصابی ضرورت کے مطابق پڑھنے کو مطالعہ کہو گے تو وہ اس کے محدود معنی ہوں گے۔غالب کی چارغزلیں پڑھنے کے بعد تم یہ دعوا کروں گے کہ میں نے غالب کو پڑھا ہے،یہ سب سے بڑی زیادتی ہے۔

شاگرد: (بڑی تجسس کے ساتھ)آپ کا فرمانا بجا ہے۔

استاد: مطالعہ کی کثرت میں برکت ہے۔جب مطالعہ میں مشاہدہ شامل ہوجائے تو کیاکہنے ……

شاگرد: قبلہ تخلیقی سفر میں مشاہدہ کی کیا اہمیت ہے ؟

استاد: یہ ایک دلچسپ سوال ہے،ا س کے کئے جوابات ہوسکتے ہیں۔مشاہدہ کرنے کے بعد جب ادرک اور غوروفکر کر کے احساسات وجذبات تجربات کی بھٹی میں پک کرایک خیال تخلیقی جامہ پہن لے تو سمجھو تخلیقی سفر کا آغاز ہوگیا۔

شاگرد: قبلہ آپ تو شاعری کرنے لگے۔
استاد:جب سامنے ایک اچھا شاعر بیٹھا ہوتوایسا ہونا یقینی ہے۔

(اس بات پر دونوں زور زور سے قہقہ مارتے ہیں )

شاگرد: قبلہ دوسرے (م) کے بارے میں بھی کچھ بتائیں۔

استاد: مشق ہی دوسرا (م) ہے۔ایک تخلیق کار کے لئے مشق بہت ضروری عمل ہے۔مشق کو ہی ریاضت کہا جاتا ہے۔کیا تم نے انتن چیخوف کا وہ قول نہیں سنا ہے کہ ”تب تک لکھتے رہوجب تک تمہارے قلم سے کوئی شاہکار نہ نکل آئے“۔

شاگرد: مشق تو کرتے رہتے ہیں۔

استاد: (مسکراہٹ کے ساتھ) ایک غزل لکھنے کو مشق نہیں کہتے برخوردار۔ ایک تخلیق مکمل کرنے کے بعد اس کو ایک عرصے کے لئے زنبیل میں ڈال دو۔پھر دوبارہ نکال کر نوک پلک سنوارو۔شعرکے محاسن ومعائب پر دھیان دو۔روزمرہ اور محاورہ کی لطافت سمجھو۔آہنگ و بحر کا خیال رکھو۔مقدار سے زیادہ معیار کو اپناؤ۔پھر مشق کی برکتیں دیکھو۔

شاگرد: آپ نے تو ڈراہی دیا۔اتنی سخت محنت کون کرتاہے بھلا آج کے دور میں۔

استاد: اسی لئے کہنہ مشق شاعر صاحب نے نئی نسل کو جلد باز کہا تھا۔

شاگرد: دوسرا (م) کا مرحلہ یقینا سخت مرحلہ ہے۔

استاد: اسی لئے کہا جاتاہے کہ چھپنے کے لئے چھپنا ضروری ہے۔

شاگرد: قبلہ اب تیسرے (م) کے بھی دیدار کروائیں۔

استاد: تیسرا (م) مشورہ ہے۔

شاگرد: جناب مشورہ کس سے کریں۔
استاد: مشورے کی پہلی شرط یہ ہے کہ”لکل فن الرجال“کے اصول مطابق مشورہ اسی شخص سے کریں جو اپنے فن میں ماہر ہو۔ورنہ ”کارنجار بدست گلکار“والا معاملہ ہوگا۔

شاگرد: آپ نے تو میری آنکھیں کھول دیں۔تخلیقی سفر کے یہ تین اہم پڑاؤ نئی نسل کے لئے سنگ میل ثابت ہوں گے۔

استاد : اسی لۓ کہا جاتا ہے شعر وشاعری میں خون جگر صرف ہوتا ہے ۔

شاگرد: (مسکراہٹ کے ساتھ) اسی لئے بہت پہلے علامہ اقبال کہہ گئے:
رنگ ہو یا خشت و سنگ،چنگ ہو یا حرف و صوت
معجزہ ئ فن کی ہے خونِ جگرسے نمود

Previous Post

Tariq Ganai Oversees ongoing cleaning, fumigation activities at Civil Secretariat Srinagar

Next Post

Offering 675 services online is a milestone towards ‘corruption free’ J&K: CS

Gadyal Desk

Gadyal Desk

Related Posts

Jammu Kashmir

Centre Unveils Major Democratic Reforms for Ladakh, Hill Councils to Be Set Up in All Seven Districts

by Gadyal Desk
13/07/2026
0

Leh, July 13 (JKNS): In a major governance reform for Ladakh, the Government of India has announced the establishment of...

Read more
Vice President Calls for Bigger NCC, More Sainik Schools Across States

Vice President Calls for Bigger NCC, More Sainik Schools Across States

13/07/2026
Kashmir University Celebrates Amir Khusru’s Timeless Legacy with Grand Sufi Musical Evening

Kashmir University Celebrates Amir Khusru’s Timeless Legacy with Grand Sufi Musical Evening

13/07/2026
Satish Sharma Assures Swift Resolution of Public Grievances, Reaffirms Commitment to People-Centric Governance

Satish Sharma Assures Swift Resolution of Public Grievances, Reaffirms Commitment to People-Centric Governance

13/07/2026

Smart City Bus Conductor Critically Injured After Assaulted by Unknown Persons in Baramulla

13/07/2026
Next Post
Offering 675 services online is a milestone towards ‘corruption free’ J&K: CS

Offering 675 services online is a milestone towards ‘corruption free' J&K: CS

  • About us
  • Contact
  • Our Team
  • Advertise
  • Careers
  • Privacy Policy
e-mail: [email protected]

© 2022 Gadyal - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Kashmir
  • Jammu
  • World
  • National
  • Sports
  • Article
  • ePaper

© 2022 Gadyal - Designed and Developed by GITS.