گھڑیا ل نیوز ڈیسک
سالانہ امر ناتھ یاترا کشمیر کی صدیوں پرانی بھائی چارے کی علامت رہی ہے اور اس یاترا کے ذریعے کشمیر میں اقتصادی صورتحال بھی بہتری ہوتی ہے کیونکہ یاتری جو پوترا شیو لنگم کے درشن کی خاطر آتے ہیں وہ کشمیر میں سیاحتی مقامات کی سیر وتفریح پر بھی جاتے ہیں اور اس طرح سے وہ یہاں خرید و فروخت بھی کرتے ہیں جس وجہ سے مختلف شعبے سے جڑے افراد کی سبیل بھی ہو جاتی ہیں۔ سالانہ امر ناتھ یاترا کے دوران بہت سارے لوگ جن میں خاص کر ہینڈی کرافٹ قابل ذکر ہے سے جڑے افراد اچھی خاصی کمائی کرتے ہیں کیونکہ یاتری پوترا شیولنگم کے درشن کرکے کچھ نہ کچھ ضرور خرید لیتے ہیں اور اس طرح سے یاترا کے ذریعے یہاں معاشی صورتحال بھی بہتر ہو جاتی ہیں اور بعض لوگ سال بھر کے لئے اچھی خاصی کمائی بھی کر لیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ہی ڈویژنل کمشنر کشمیر پی کے پولے نے بتایا کہ امر ناتھ یاترا سے کشمیر کی اقتصادی کو بڑھاوا ملتا ہے ۔ جموں وکشمیر یوٹی حکومت اور ایس اے ایس بی نے اِس برس یاتریوں کی بھاری آمد کی توقع کرتے ہوئے یاترا کے لئے وسیع انتظامات کئے ہیں اور سیکورٹی کے حوالے سے فول پروف انتظامات ہیں۔ یاترا کے لئے جو انتظامات کیے گئے ہیں وہ گزشتہ برسوں کے مقابلے دوگنا ہیں اور پوری انتظامیہ اس سال اتنی بڑی تعداد میں یاتریوں کے استقبال میں لگی ہوئی ہے۔ عقیدت مندشرائین بورڈ کی ویب سائٹ یاشرائین بورڈ سے صبح اور شام کی آرتی کے براہِ راست ٹیلی کاسٹ سے پوتر گپھا میں پوتر برف کے لنگم کے‘ درشن’کرسکتے ہیں۔کورونا کی وجہ سے دو سال کے وقفہ کے بعد امرناتھ یاترا کا آغاز ایک اچھا شگون ہے کیونکہ گزشتہ دو برسوں میں کورونا کی وجہ سے یہ یاترا ہو ہی نہیں پائی جس کا خمیازہ کشمیری معیشت کو بھی بھگتنا پڑا اور سیاحت نہ ہونے کی وجہ سے معیشت کے تمام کل پرزے ڈھیلے پڑ چکے تھے تاہم اس سال جس طرح پہلے روز سے سیاحتی شعبہ سے زور پکڑا ہوا ہے اور اب تک لاکھوں سیاح پہلے ہی وارد کشمیر ہوچکے ہیں تو ایسے میں اگر امرناتھ یاترا متعین شیڈول کے مطابق مکمل ہوجاتی ہے تو کشمیر آنے والے سیاحوں کی تعدادمیں مزید8لاکھ کا اضافہ ہے۔کون نہیں جانتا کہ جو یاتری گپھا کے درشن کیلئے آتا ہے ،وہ کشمیر میں پھر کچھ دن گزار کے ہی واپس جاتا ہے اور اس دوران وہ کشمیر کے صحت افزاء مقامات سے لطف اندوز بھی ہوتا ہے۔اس کا مطلب یہ کہ ہے کہ جتنی زیادہ یاتریوں کی نقل و حمل ہوگی ،اْتناہی کشمیر کے سیاحتی مقامات پر بھیڑ رہے گی اور جتنا بھیڑ رہے گی ،اْتنا فائدہ ہوگا کیونکہ معیشت کا پہیہ چلتا رہے گا۔سالانہ امر ناتھ یاترا کشمیر کے بھائی چارے کی ایک علامت رہی ہے ۔ اس یاترا کے ذریعے یہاں لوگوں کو روزگار بھی ملتا ہے ، ہینڈی کرافٹ شعبے سے وابستہ افراد بھی امر ناتھ یاترا کے دوران اچھی خاصی کمائی کرتے ہیں اور پہلگام و بالہ تل میں ریڈیاں لگا کر یاتریوں کو شال اور دوسری قیمتی اشیاء فروخت کرتے ہیں اس طرح سے یاترا کی وجہ سے ہینڈی کرافٹ شعبے سے جڑے افراد کی بھی سبیل ہو جاتی ہیں۔ جہاں تک امر ناتھ یاترا اور اس کے انتظام و انصرام کا تعلق ہے تو بلا شبہ سرکاری سطح پر انتظامات کئے گئے ہیں تاہم کون یہ بھول سکتا ہے کہ یہ یاترا کشمیر میں مذہبی بھائی چارہ کی زندہ علامت رہی ہے اور ماضی قریب تک امرناتھ شرائن بورڈ کے قیام سے قبل مقامی مسلم آبادی کے عملی تعاون سے ہی یہ یاترا ممکن ہوپارہی تھی۔کشمیری عوام نے روز اول سے اس یاترا کا خیر مقدم کیاہے اور حق بات تو یہ ہے یہ گپھا دریافت کرنے والے بھی کشمیری مسلمان رہے ہیں جس کے بعد پہلگام کا وہ ملک خاندان برسوں تک اس یاترا کی نگرانی پر مامور ہوا کرتا تھا۔اب جبکہ انتظامات کو معیاری بنانے کیلئے باضابطہ شرائن بورڈ بن چکا ہے تاہم یہ بھی کھلی حقیقت ہے کہ آج بھی یہ یاترا مقامی مسلم برادری کے عملی تعاون سے ہی ممکن ہوپارہی ہے اور پہلگام و بال تل کے بیس کیمپوں سے لیکر گپھا تک جس طرح کشمیر کے مسلمان یاتریوں کی خدمت میں لگے رہتے ہیں ،وہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ کشمیر میں آج بھی مذہبی بھائی چارہ قائم ہے۔کشمیر کے لوگوں نے ہمیشہ یاترا کا خیر مقدم کرکے اُنہیں بہتر سہولیات فراہم کی ہیں۔ اس وقت جب یاترا جاری ہے تو پہلگام اور بالہ تل میں مقامی مسلمانوں نے لنگر بھی لگائے ہیں جہاں پر یاتریوں کو مفت کھانے پینے کی اشیاء فراہم کی جارہی ہیں۔ کشمیر کے عوام نے ہمیشہ یاتریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ آفات سماوی میں اُن کی مدد بھی کی جب کھبی بھی پہلگام اور بالہ تل میں کوئی آفات سماوی کا واقع رونما ہوتا تو کشمیر کے لوگوں نے اپنی جانوں کو جوکھم میں ڈال کر یاتریوں کی جانیں بچائیں ہیں۔






