لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی ذاتی دلچسپی کے باعث تین ماہ کے دوران ریکارڈ توڑ سیاح وارد کشمیر
رواں سال کے تین ماہ کے دوران کشمیر کی سیر وتفریح پر ریکارڈ توڑ سیاح آئے ۔ سیاحوں کی تعداد کا اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ صرف مارچ کے مہینے میں دو لاکھ سیاح وارد کشمیر ہوئے جس دوران وہ قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہوئے۔ جموں وکشمیر میں سیاحت کو پروان چڑھانے میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا ہاتھ ہے جنہوں نے اس شعبے کی طرح خصوصی توجہ مبذول کی اور آج وادی کشمیر میں سبھی ہوٹل پوری طرح سے بک پڑے ہوئے ہیں جبکہ ہزاروں کی تعداد میں سیاحوں نے ایڈوانس بکنگ بھی شروع کی ہے۔ رواں سال اگر حالات پوری طرح سے معمول پر رہے تو وادی کشمیر میں سیاحوں کی آمد کے سبھی ریکارڈ ٹوٹ جائیں گے۔ ٹورازم ڈیلوپمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ پچھلے چھ ماہ کے دوران جموں وکشمیر کی سیر و تفریح پر 80لاکھ سیاح آئے ہیں ۔ایل جی منوج سنہا کی رہنمائی میں سیاحوں کو وسیع پیمانے پر پر کشش مقامات پیش کرنے کیلئے محکمہ کی طرف سے شروع کئے گئے مختلف قابلِ ذکر اقدامات کی وجہ سے یو ٹی ملک کے خوبصورت اور مشہور مقام پر سیاحوں کی آمد میں زبردست اضافہ دیکھ رہا ہے ۔ مرکزی حکومت تمام وسائل اور ضروری تعاون کے ساتھ جموں و کشمیر کے محکمہ سیاحت کی کوششوں کو آگے بڑھا رہی ہے ۔ 786 کروڑ روپے کے ریکارڈ بجٹ مختص کی لبرل فنڈنگ جو کہ گذشتہ بجٹ کے مختص سے 509 کروڑ روپے زیادہ ہے ،جموں و کشمیر میں سیاحت کے بنیادی ڈھانچے اور متعلقہ خدمات کو فروغ دینے کیلئے مرکزی حکومت کی خواہش کے بارے میں بتاتی ہے ۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جموں و کشمیر کے 75 دیہاتوں کو تاریخی ، دلکش خوبصورتی اور ثقافتی اہمیت کیلئے سیاحتی گاؤں میں تبدیل کرنے کیلئے جے اینڈ کے ٹورسٹ ولیج نیٹ ورک پہل شروع کی ۔ نوجوانوں کی قیادت میں پائیدار سیاحتی اقدام کا مقصد دیہی معیشت اور کمیونٹی انٹر پرنیور شپ کو مضبوط بنانے کے علاوہ نوجوانوں اور خواتین کو براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع فراہم کر کے بااختیار بنانا ہے ۔ مرکزی زیر انتظام حکومت ہر گاؤں کی انفرادیت کو تسلیم کرتے ہوئے بہترین طرز عمل اپنا رہی ہے اور مناظر ، مقامی عملی نظام ، ثقافتی تنوع اور ورثے ، مقامی اقدار اور روایات کی نمائش کے علاوہ فلم کی شوٹنگ کی حوصلہ افزائی ، مالی مراعات کی پیشکش کے ساتھ ساتھ ان سب دیہات کیلئے ڈیجٹل پلیٹ فارم کو یقینی بنا رہی ہے ۔ سیاحوں کی آمد کے درمیان سرینگر بین الاقوامی ہوائی اڈے نے ریکارڈ فلائٹ آپریشنز رجسٹر کئے ہیں ۔ مثال کے طور پر 28 مارچ کو سرینگر کے ہوائی اڈے نے 90 آنے اور جانے والی پروازیں چلائیں جس نے 15014 سے زیادہ سیاحوں کو لے کر اسے ہوائی اڈے کی تاریخ کا مصروف ترین دن بنا دیا ۔ جموں و کشمیر میں تجارت اور سیاحت کو فروغ دینے کیلئے گذشتہ سال 23 اکتوبر کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سرینگر ۔ شارجہ کی براہ راست پرواز کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا تھا ، جو بین الاقوامی سیاحوں اور گھریلو سیاحوں کے درمیان متاثر ہوا ہے جنہوں نے جموں و کشمیر کو اپنے دبئی کے سفر نامہ میں شامل کیا ۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ایل جی منوج سنہا نے متحدہ عرب امارات ، ہانگ کانگ اور دیگر جی سی سی ممالک کے تاجروں کے 34 رکنی وفد کے ساتھ جموں و کشمیر کے درمیان تعاون کی گنجائش پر روشنی ڈالی ۔ جو سرمایہ کاری کی تلاش کے لئے یوٹی کے چار روزہ دورے پر تھا ۔ سرینگر میں گلف بزنس سمٹ کے دوران ‘ زمین پر جنت ’ کو دُنیا کا سب سے خوبصورت سرمایہ کاری کا مقام بنانے کیلئے منعقد ہوا ۔ ایک اہم اقدام میں جموں و کشمیر حکومت نے مرکزی علاقے میں سیاحت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے ایک نئی فلم پالیسی کا آغاز کیا ۔ پالیسی میں جموں و کشمیر فلم ڈیولپمنٹ کونسل ( جے کے ایف ڈی سی ) کی ترتیب کا تصور کیا گیا تھا ۔ پالیسی جموں و کشمیر میں قومی سطح پر مسابقتی بنیادی ڈھانچہ بنانے کی کوشش کرتی ہے ۔ یہ یو ٹی میں فلم سازی کو آسان بنانے کیلئے 2 سے 4 ہفتوں کے اندر فلموں کی شوٹنگ کی اجازت دینے کیلئے سنگل ونڈو سیل قائم کر کے انتظامی مدد کی یقین دہانی کراتی ہے ۔ ہندوستانی فلم انڈسٹری کشمیر کے ساتھ اپنے رومانس کو دوبارہ زندہ کر رہی ہے ، یہ ایک ایسی منزل ہے جو کبھی فلمسازوں اور سامعین کی پسند تھی ۔ جلد ہی وادی نے اپنے کھلتے ہوئے ٹیو لپس ، پرسکون جھیلوں ، مخروطی درختوں اور ڈل جھیل پر لگے کیمرے دیکھے ۔ اس کے علاوہ کشمیر کا مشہور ٹیو لپ گارڈن ، جو ایشیا کا سب سے بڑا باغ ہے جہاں 1.5 ملین پھول کھلے ہوئے ہیں اس سال جب سے اسے عوام کیلئے کھولا گیا ہے ، سیاحوں ، مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ گھریلو سیاحوں کی آمد کی اب تک کی سب سے زیادہ تعداد دیکھی گئی ۔جموں وکشمیر میں رواں سال کے تین ماہ کے دوران جس انداز سے سیاحتی شعبے کو بڑھاوا ملا ہے اُس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ رواں سال سیاحوں کے آنے کے سبھی ریکارڈ ٹوٹ جائیں گے۔ وادی کشمیر میں سیاحوں کی آمد سے نہ صرف اس شعبے سے جڑے لوگوں کو فائدہ حاصل ہوگا بلکہ روزگار کے نئے وسائل بھی پیدا ہو نگے اور معاشی صورتحال بھی بہتر ہونے کی اُمید کی جاسکتی ہے۔
وادی کشمیر میں وقف اثاثوں کی صحیح نگرانی اور ترقی ناگزیر
وقف املاک نہ کسی مذہبی لیڈر کی ملکیت ہوتی ہے اور ناہی کسی خاص انجمن کی ملکیت ہے بلکہ یہ...
Read more







